سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 175
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۷۵ چنانچہ حضرت اقدس اس وعدہ کے مطابق ۱۴ را کتوبر ۱۸۸۴ء کو لودہا نہ تشریف لے گئے اور میر صاحب کی عیادت کر کے واپس چلے آئے اور خدا تعالیٰ نے ان کو شفا بھی دے دی۔عیادت کے لئے باہر جانے کا ایک اور واقعہ حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ ے متعلق ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی عیادت کے لئے جموں تشریف لے جانا حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ جموں میں شاہی طبیب تھے اور حضرت اقدس کے ساتھ جو محبت اور عقیدت کا عملی رنگ آپ میں تھا دوسروں میں اس کی نظیر نہیں۔اس کمال کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد آپ کا خلیفہ اور جانشین بنا دیا۔۱۸۸۸ء میں مولوی صاحب بیمار ہو گئے۔حضرت حکیم فضل دین صاحب رضی اللہ عنہ نے حضرت اقدس کو اطلاع کی۔آپ نے فوراً اس خط کے آنے پر جموں جانے کا ارادہ کر لیا۔چنانچہ روانگی سے پہلے آپ نے مندرجہ ذیل خط لکھا۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سَلَّمَهُ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج رجسٹری شدہ خط کے روانہ کرنے کے بعد ا خویم حکیم فضل دین صاحب کا خط جو بلف خط ہذا روانہ کیا جاتا ہے۔آپ کی علالت طبع کے بارے میں پہنچا۔اس خط کو دیکھ کر نہایت تر ڈر پیدا ہوا اس لئے میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ آپ کی عیادت کے لئے آؤں۔اور میں خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپ کو من کل الوجوہ تندرست دیکھوں وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔سو ہفتہ کے دن یعنی ساتویں تاریخ جنوری ۱۸۸۸ء کو روانہ ہونے کا ارادہ ہے آگے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے سواگر ہفتہ کے دن روانہ