سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 174 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 174

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ شخص نے کہا تھا کہ اس سے نبوت کی بُو آتی ہے اور دعویٰ مسیحائی تک اس نے اپنے اخلاص کا بہترین نمونہ دکھایا۔مگر کسی مخفی شامت اعمال نے بالآخر اسے کاٹ ڈالا۔۱۸۸۴ء میں اس کی ارادت و عقیدت ترقی کر رہی تھی اور اس سال اکتوبر میں وہ بیمار ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کی بیماری کا خط ملا آپ نے باوجود یکہ خود بیمار تھے اور از بس مصروف تھے مگر حق دوستی اور اخوت کی اس قدر رعایت کی کہ خود اُن کی عیادت کے لئے لودہا نہ جانا ضروری سمجھا۔چنانچہ پہلے ان کو ایک خط لکھا جو یہ ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدوم مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سَلَّمَة- السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔یہ عاجز چند روز سے امرتسر گیا ہوا تھا آج بروز چار شنبہ بعد روانہ ہو جانے ڈاک کے یعنی تیسرے پہر قادیان پہنچا اور مجھ کو ایک کارڈ میر امداد علی صاحب کا ملا ( یہ میر امداد علی صاحب میر عباس علی صاحب کے رشتہ میں بھتیجے تھے۔عرفانی ) جس کے دیکھنے سے بمقتضائے بشریت بہت تفکر اور تردد لاحق ہوا۔اگر چہ میں بیمار تھا مگر اس بات کے معلوم کرنے سے کہ آپ کی بیماری غایت درجہ کی سختی پر پہنچ گئی ہے۔مجھ کو اپنی بیماری بھول گئی اور بہت ہی تشویش پیدا ہوگئی۔خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے عمر بخشے اور آپ کو جلد تر صحت عطا فرماوے۔اسی تشویش کی جہت سے آج بذریعہ تار آپ کی صحت دریافت کی اور میں بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ بشرط صحت و عافیت ۱۴ /اکتوبر تک وہیں آکر آپ کو دیکھوں اور میں خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ہوں کہ آپ کو صحت عطا فرمادے۔آپ کے لئے بہت دعا کروں گا اور اب تَوَكُلًا عَلَی اللہ آپ کی خدمت میں یہ خط لکھا گیا آپ اگر ممکن ہو تو اپنے دستخط خاص سے مجھ کو مسرور الوقت فرما دیں۔۱/۸ کتو بر ۱۸۸۴ء مطابق ذی الحجہ۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۶۰۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء)