سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 154 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 154

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۴ حصّہ اوّل بائیسکل پر نکلا اور اس نے اپنے ساتھ کچھ نہیں لیا تھا۔ایک مسلمان لڑکا بھی اس کے ساتھ تھا۔وہ قادیان میں آیا اور یہاں ٹھہرا۔حضرت اقدس نے باجود یکہ وہ عیسائی اور سلسلہ کا دشمن تھا۔اس کی خاطر تواضع اور مہمان داری کے لئے متعلقین لنگر خانہ اور دوسرے احباب کو خاص طور پر تاکید فرمائی اور ہر طرح اس کی خاطر و مدارات ہوئی۔اس نے اپنے اخبار تحفہ سرحد بنوں میں غالباً اس کا ذکر بھی کیا تھا۔اور آپ کا یہ طریق تھا کہ آپ مہمانوں کے آنے پر لنگر خانہ والوں کو خاص تاکید فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ ۲۵ دسمبر ۱۹۰۳ء کو جب کہ بہت سے مہمان بیرونجات سے آگئے تھے میاں نجم الدین صاحب مہتم لنگر خانہ کو بلا کر فرمایا کہ: ”دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہواور بعض کو نہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔سردی کا موسم ہے چائے پلا ؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میرا احسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو“ (اخبار البدر مورخه ۸ / جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳ کالم نمبر۱) اور یہ ایک مرتبہ نہیں ہمیشہ ایسی تاکید کرتے رہتے۔بعض وقت یہ بھی فرماتے کہ میں نے تم پر حجت پوری کر دی ہے۔اگر تم نے غفلت کی تو اب خدا کے حضور تم جواب دہ ہو گے۔ایسا ہی ایک مرتبہ ۲۲ /اکتوبر ۱۹۰۴ء کو فرمایا دلنگر خانہ کے مہتم کو تاکید کردی جاوے کہ وہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مدنظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اسے خیال نہ رہتا ہو اس لئے کوئی دوسرا شخص یاد دلا دیا کرے کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دستکش نہ ہونا چاہیے کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی ہیں تو ہمارا یہ حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مدنظر رکھیں۔بعض وقت