سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 152
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ حصّہ اوّل بیگو وال جانا پڑا تھا۔اس گاؤں کے ہم پر حقوق ہیں۔اس کے بعد بھی اگر کوئی وہاں آجا تا تو آپ ان کے ساتھ خصوصاً بہت محبت کا برتا ؤ فرماتے۔ایک دفعہ مولوی عبدالحکیم جو نصیر آبادی کہلاتا تھا قادیان میں آیا۔یہ بہت مخالف تھا اور وہی مولوی تھا جس نے لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے۱۸۹۲ء میں مباحثہ کیا تھا اور اس مباحثہ کے کاغذات لے کر چلا گیا تھا ، وہ قادیان میں آیا۔حضرت کو اطلاع ہوئی۔حضرت نواب صاحب نے اپنا مکان قادیان میں بنوا لیا تھا اور وہ اس وقت کچا تھا اس کے ایک عمدہ کمرہ میں اس کو اتارا گیا اور ہر طرح اس کی خاطر تواضع کے لئے آپ نے حکم دیا اور یہ بھی ہدایت کی کہ کوئی شخص اس سے کوئی ایسی بات نہ کرے جو اس کی دشکنی کا موجب ہو۔وہ چونکہ مخالف ہے اگر کوئی ایسی بات بھی کرے جو رنج دہ اور دل آزاری کی ہو تو صبر کیا جاوے۔چنانچہ وہ رہا۔میں اس مباحثہ میں جو لاہور فروری ۱۸۹۲ء میں ہوا تھا موجود تھا اور مجھے معلوم تھا کہ اس مباحثہ کے کاغذات وہ لے گیا تھا اور واپس نہ کئے تھے۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ جناب مجھے آپ کی بڑی تلاش تھی آپ کے پاس وہ مباحثہ کے پرچے ہیں۔مہربانی کر کے مجھے دے دیں۔آپ کے کام کے نہیں اور اگر اپنا پر چہ نہ بھی دیں تو حرج نہیں مگر حضرت اقدس والے پرچے ضرور دے دیں۔مولوی عبدالحکیم صاحب کو خیال تھا کہ شاید اسے کوئی اور نہیں جانتا اور حضرت صاحب نے تو اس مباحثہ کا ذکر بھی نہیں فرمانا تھا تا کہ اسے ندامت نہ ہو۔بلکہ اخلاق و مروت کا اعلیٰ برتا ؤ فرماتے رہے۔مولوی صاحب بڑے جوش سے آئے تھے کہ میں مباحثہ کروں گا اور وہ اپنے مکان پر مخالفت کرتے تھے اور بڑے جوش سے کرتے تھے۔ہم ان کی مخالفت کو سنتے اور جیسا کہ حکم تھا نہایت ادب اور محبت سے ان کی تواضع کرتے رہے آخر جب ان سے میں نے مباحثہ لاہور کے پرچے مانگے تو اس کے بعد وہ بہت جلد تشریف لے گئے اور وعدہ کر گئے کہ جاتے ہی بھیج دوں گا۔ان کے ساتھ ہی وہ مباحثہ کے کاغذات ختم ہوئے باوجود یکہ وہ مخالفت پر اتر آیا تھا اور مخالفت کرتا رہا مگر حضرت اقدس نے اس لئے کہ وہ مہمان تھا اس کے اکرام اور تواضع کے لئے ہم سب کو حکم دیا اور سب نے