سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 150
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے خوش ہوتے ہیں اور جانے پر کرہ سے رخصت دیتے ہیں اور کثرت سے آنے جانے والوں کو بہت ہی پسند فرماتے ہیں۔اب کی دفعہ دسمبر میں (۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے ) بہت کم لوگ آئے اس پر بہت اظہار افسوس کیا اور فرمایا ہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ کیا بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ اُکتائیں اور فرمایا جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اس پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسا سمجھتا ہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہوگا اسے ڈرنا چاہیے کہ شرک میں مبتلا ہے۔ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہمارا عیال ہو جاوے تو ہمارے مہمات کا متکفل خدا ہے ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے نکال دینا چاہیے۔میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت کو تکلیف دیں۔ہم تو سکتے ہیں یونہی بیٹھ کر روٹی کیوں تو ڑا کریں۔وہ یاد رکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالا ہے کہ ان کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔ایک روز حکیم فضل الدین ( رضی اللہ عنہ ) نے عرض کیا کہ حضور میں یہاں نکما بیٹھا کیا کرتا ہوں مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جاؤں وہاں درس قرآن ہی کروں گا۔یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضور کے کسی کام نہیں آتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت ہو۔فرمایا آپ کا یہاں بیکار بیٹھنا ہی جہاد ہے اور یہ بیکاری بڑا کام ہے۔غرض بڑے دردناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی اور فرمایا یہ عذر کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں عذر کیا تھا اِنَّ بيوتنا عَوْرَةُ اور خدا تعالیٰ نے اُن کی تکذیب کردى إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا 66 حصّہ اوّل ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب صفحه ۵۰،۴۹)