سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 149
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۹ حصّہ اوّل کیا انتظام ہے، کس قدر تیار ہو گیا ، کس قدر باقی ہے، کیا پکا یا گیا ہے اس سلسلہ میں یہ بھی میں نے عرض کیا کہ ان کے لئے خاص طور پر انتظام کر رہے ہیں۔فرمایا کہ میرے لئے سب برابر ہیں اس موقع پر امتیاز اور تفریق نہیں ہو سکتی۔سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا ہونا چاہیے۔یہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں۔مولوی صاحب کے لئے الگ انتظام ان کی لڑکی کی طرف سے ہو سکتا ہے اور وہ اس وقت میرے مہمان ہیں اور سب مہمانوں کے ساتھ ہیں اس لئے سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیا جائے خبر دار کوئی امتیاز کھانے میں نہ ہو۔اور بھی بہت کچھ فرمایا اور غر بائے جماعت کی خصوصیت سے تعریف کی اور فرمایا کہ جیسے ریل میں سب سے بڑی آمدنی تھرڈ کلاس والوں کی طرف سے ہوتی ہے اس سلسلہ کے اغراض و مقاصد کے پورا کرنے میں سب سے بڑا حصہ غربا کے اموال کا ہے اور تقویٰ طہارت میں بھی یہی جماعت ترقی کر رہی ہے۔غرض اس طرح نصیحت کی فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ۔آپ ہرگز عام برتا ؤ اور سلوک میں کوئی امتیاز نہ رکھتے تھے گومنازل و مراتب مناسبہ کو بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے اور یہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کی تھیں تھی۔(۷) ساتویں خصوصیت یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ ہمارے دوست خصوصاً کثرت سے آئیں اور بہت دیر تک ٹھہریں اگر چہ زیادہ دیر تک ٹھہر نا وہ سب کا پسند کرتے تھے۔غیروں کے لئے اس لئے کہ حق کھل جائے اور اپنوں کے لئے اس لئے کہ ترقی کریں۔کثرت سے آنے جانے والوں کو ہمیشہ پسند فرمایا کرتے تھے۔اس کی تہ میں جو غرض اور مقصود تھا وہ یہی تھا کہ تا وہ اس مقصود کو حاصل کر لیں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے۔حضرت مولا نا عبد الکریم رضی اللہ عنہ نے آپ کی اس خصوصیت کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت کبھی پسند نہیں کرتے تھے کہ خدام ان کے پاس سے جائیں۔آنے پر