سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 148 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 148

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۴۸ حصہ اول کی طرف سے یہ ان لوگوں میں ہی ودیعت کی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہدایت کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں۔اور اگر یہ ہمدردی مخلوق الہی کے لئے ان کے دل میں نہ ہو تو وہ ان مشکلات کے پہاڑوں اور مصائب کے دریاؤں سے نہ گزر سکیں جو تبلیغ حق کی راہ میں آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس انتہائی دلسوزی اور غم خواری کا نقشہ قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) یعنی اس ہم و غم میں کہ لوگ کیوں خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور صراط مستقیم کو اختیار کر کے اس مقصد زندگی کو پورا نہیں کرتے جس کے لئے اُن کو پیدا کیا گیا ہے تو اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا۔یہ جوش مخلوق کی ہدایت کے لئے اور اُن کی ہمدردی کے لئے خاصہ انبیاء علیہم السلام ہے۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کی خصوصیات بیان کر رہا تھا اور اس میں حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح پر آپ ان کے آرام کے لئے ایک پہرہ دار کی طرح کام کرتے تھے۔سچ ہے۔بخیر و عافیت بگذرد شب اندر خواب که پاسبانی ایشاں بصد عنا باشد (1) چھٹی خصوصیت آپ کی مہمان نوازی کی یہ تھی کہ حفظ مراتب کی ہدایت کے ساتھ عام سلوک اور تعلقات میں آپ مساوات کے برتا ؤ کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔اس بات کا بے شک لحاظ ہوتا تھا کہ مہمانوں کو ان کے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے اتارا جاتا اور یہ حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل تھی۔مگر خبر گیری اور مہمان نوازی کے عام معاملات میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا۔۱۹۰۵ء کے سالانہ جلسہ پر کھانے وغیرہ کا انتظام میرے سپرد تھا اور میری مدد کے لئے اور چند دوست ساتھ تھے ہم نے مولوی غلام حسین صاحب پشاوری اور ان کے ہمراہیوں کے لئے خاص طور پر چند کھانوں کا انتظام کرنا چاہا۔حضرت اقدس تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کیفیت طلب فرماتے تھے کہ کھانے کا