سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 147 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 147

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ حصہ اول رکھتے تھے اس لئے ان کے لئے خاص طور پر اہتمام ہوتا۔اور خود خواجہ صاحب بھی شب دیگ وغیرہ پکاتے رہتے۔میرا مطلب ان واقعات کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اپنے مہمانوں اور خادموں کے ساتھ بے تکلفی کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔ایسا ہی حضرت مولوی شیر علی صاحب کی روایت سے حضرت صاحبزادہ صاحب نے سیرت المہدی میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ مولوی صاحب اور چند اور آدمی جن میں خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب بھی تھے حضرت اقدس کی ملاقات کو اندر مکان میں حاضر ہوئے۔آپ نے خربوزے کھانے کو دیئے۔اور مولوی صاحب کو ایک موٹا سا خربوزہ دیا اور فرمایا کہ اسے کھا کر دیکھیں کیسا ہے؟ پھر آپ ہی مسکرا کر فرمایا کہ موٹا آدمی منافق ہوتا ہے پھیکا ہی ہوگا۔چنانچہ وہ پھیکا ہی نکلا۔یہ لطیفہ بھی بے تکلفی کی ایک شان اپنے اندر رکھتا ہے۔(۵) آپ کی مہمان نوازی کی ایک یہ بھی خصوصیت تھی کہ آپ مہمانوں کے آرام کے لئے نہ صرف ہر قسم کی قربانی کرتے تھے بلکہ ہرممکن خدمت سے کبھی مضائقہ نہ فرماتے تھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے اور اُسے شائع کیا ہے کہ چار برس (۱۸۹۶ء کا غالباً واقعہ ہے کیونکہ۱۹۰۰ء میں آپ نے یہ بیان شائع کیا تھا۔عرفانی) کا عرصہ گزرتا ہے کہ آپ کے گھر کے لوگ لودہانہ گئے ہوئے تھے۔جون کا مہینہ تھا مکان نیا نیا بنا تھا۔میں دو پہر کے وقت وہاں چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پر لیٹ گیا۔حضرت ٹہل رہے تھے۔میں ایک دفعہ جاگا تو آپ فرش پر میری چار پائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔میں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا آپ نے بڑی محبت سے پوچھا۔آپ کیوں اٹھے۔میں نے عرض کیا کہ آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سورہوں۔مسکرا کر فرمایا۔میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے۔( مصنفہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب صفحه ۴۰) یہ محبت یہ دلسوزی اور خیر خواہی ماں باپ میں بھی کم پائی جاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ