سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 146
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ حصّہ اوّل خلیفہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور اس کا کیا مطلب؟ فرمایا ہمارے گھر والوں پر حرام ہے اس سے اور بھی تعجب خلیفہ صاحب کو ہوا۔ان کو منتعجب پا یا تو فرمایا یہ حرام طبقی ہے شرعی نہیں۔ان کی طبیعت اچھی نہیں اور چائے ان کو مضر ہے۔غرض یہ بظاہر ایک لطیفہ سمجھا جا سکتا تھا مگر آپ کی غرض اس واقعہ سے یہ بھی تھی کہ خلیفہ صاحب خوب سیر ہو کر پئیں کیونکہ گھر میں تو کسی نے چائے پینی نہ تھی اور حضرت کو یہ خیال تھا کہ خلیفہ صاحب بوجہ کشمیر میں رہنے کے چائے کے عادی سمجھے جا سکتے ہیں اور چائے بہت پیتے ہوں گے۔اس لئے آپ ان کی خاطر داری کے لئے بہت سی چائے بنوا کر لائے۔اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم نے اور میں نے ہی پینی ہے تا کہ ایک قسم کی مساوات کے خیال سے ان کو تکلف نہ رہے غرض مہمانوں میں کھانے پینے اور اپنی ضروریات کے متعلق بے تکلفی پیدا کر دیتے تھے تا کہ وہ اپنا گھر سمجھ کر آزادی اور آرام سے کھا پی لیں۔اسی بے تکلفی پیدا کرنے کے لئے کبھی کبھی شہتوت بیدانہ کے ایام میں باغ میں جا کر ٹوکرے بھروا کر منگواتے اور مہمانوں کو ساتھ لے کر خود بھی انہی ٹوکروں میں سے سب کے ساتھ کھاتے۔آہ! وہ ایام کیا مبارک اور پیارے تھے۔ان کی یاد آتی ہے تو تڑپا جاتی ہے۔دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا سفر میں بھی جب کبھی ہوتے تو اپنے مہمانوں کا خاص خیال رکھتے۔جن ایام میں گورداسپور مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے ہوئے تھے احباب کو معلوم ہے کہ کس طرح پر مہمانوں کی خاطر مدارات کا خیال رکھا جاتا تھا۔آموں کے موسم میں آموں کے ٹوکرے منگوا کر اپنے خدام کے سامنے رکھتے۔ایک مرتبہ خواجہ صاحب کے لئے آموں کا ایک بار خر خریدا گیا۔احباب مذاق کرتے تھے کہ خواجہ صاحب آموں کا گدھا کھا گئے۔خواجہ صاحب کو کھانے پینے کا بہت شوق تھا اور حضرت اقدس ان کے احساسات کا خیال