سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 140
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۰ حصّہ اوّل ہے۔غرض وہاں سے گزر کر مہمان خانہ پہنچے۔رمضان کا آغاز تھا اور لوگ اس وقت اٹھ رہے تھے مہمان خانہ کی کائنات صرف دو کو ٹھریاں ایک دالان تھا جو مطب والا ہے۔باقی موجودہ مہمان خانہ تک پلیٹ فارم ہی تھا۔حضرت حافظ حامد علی مرحوم کو خبر ہوئی کہ کوئی مہمان آیا ہے۔اس وقت مہمان خانہ کے مہتم کہو، داروغہ کہو ، خادم سمجھو سب کچھ وہی تھے۔میرے وہ واقف و آشنا تھے۔جب وہ آکر ملے تو محبت اور پیار سے انہوں نے مصافحہ اور معانقہ کیا اور حیرت سے پوچھا کہ اس وقت کہاں سے۔میں نے جب واقعات بیان کئے تو بیچارے بہت حیران ہوئے۔میں نے وہ سبزی وغیرہ ان کے حوالے کی وہ لے کر اسی وقت اندر گئے۔اور حضرت صاحب کو اطلاع کی۔میرا خیال ہے کہ تین بجے کے قریب قریب وقت تھا۔حضرت صاحب نے اُسی وقت مجھے گول کمرہ میں بلالیا۔اور وہاں پہنچنے تک پُر تکلف کھانا بھی موجود تھا۔میں اس ساعت کو اپنی عمر میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ کس محبت اور شفقت سے بار بار فرماتے تھے آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔میں عرض کرتا رہا نہیں حضور تکلیف تو کوئی نہیں ہوئی معلوم بھی نہیں ہوا۔مگر آپ بار بار فرماتے ہیں راستہ بھول جانے کی پریشانی بہت ہوتی ہے۔اور کھانا کھانے کے لئے تاکید فرمانے لگے۔مجھے شرم آتی تھی کہ آپ کے حضور کس طرح کھاؤں میں نے تامل کیا مگر آپ نے خود اپنے دست مبارک سے کھانا آگے کر کے فرمایا کہ کھاؤ بہت بھوک لگی ہوگی۔سفر میں تکان ہو جاتا ہے۔آخر میں نے کھانا شروع کیا تو پھر فرمانے لگے کہ خوب سیر ہوکر کھاؤ شرم نہ کرو۔سفر کر کے آئے ہو۔حضرت حامد علی صاحب بھی پاس ہی بیٹھے تھے اور آپ بھی تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ حضور آپ آرام فرمائیں میں اب کھالوں گا۔حضرت اقدس نے اس وقت محسوس کیا کہ میں آر کی موجودگی میں تکلف نہ کروں۔فرمایا اچھا حامد علی تم اچھی طرح سے کھلا ؤ اور یہاں ہی ان کے لئے بستر بچھا دو تا کہ یہ آرام کر لیں اور اچھی طرح سے سو جائیں۔“ آپ تشریف لے گئے مگر تھوڑی دیر بعد ایک بستر الئے ہوئے پھر تشریف لے آئے۔میری حالت اس وقت عجیب تھی ایک طرف تو میں آپ کے اس سلوک پر نادم ہو رہا تھا کہ ایک واجب الاحترام ہستی اپنے ادنی غلام کے لئے کس