سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 139 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 139

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۹ حصّہ اوّل اس اخلاص کا نیک بدلہ انہیں دے گا۔مولانا ابونصر کی یہ تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شمائل و اخلاق کا ایک مختصر سا مرقع ہے۔(۱۰) خاکسار مؤلّف کا اپنا واقعہ میں پہلی مرتبہ ۱۸۹۳ء کے مارچ مہینے کے اواخر میں قادیان آیا۔راستہ سے ناواقف تھا اور بٹالہ گاڑی شام کے قریب آتی تھی۔دن تھوڑا سا باقی تھا۔میرے پاس کچھ سامان سبزی وغیرہ کی قسم سے تھا۔مجھے یکہ کوئی نہ ملا۔میں نے ایک مزدور جو بٹالہ میں جوتوں کی مرمت کیا کرتا تھا ساتھ لیا۔وہ بڑھا آدمی تھا اور اس کا گھر دوانی وال تھا۔راستہ میں جب وہ اپنے گاؤں کے قریب پہنچا تو اس نے کہا کہ میں گھر سے ہو آؤں اور گھر والوں کو اطلاع دے آؤں کہ قادیان جاتا ہوں۔اسے گھر میں اچھی خاصی دیر ہو گئی اور آفتاب غروب ہو گیا۔میں نے بٹالہ میں راستہ کی کچھ تفصیلات معلوم کی تھیں کہ نہر آئے گی اس سے آگے ایک چھوٹی سے پکی آئے گی وہاں سے قادیان کو راستہ جاتا ہے۔رات اندھیری تھی ہم دونوں چلے آئے مگر وہ بھی راستہ سے پورا واقف نہ تھا۔نہر پر پہنچے تو چونکہ نہر بند تھی ہمیں کچھ معلوم نہ ہوا کہ نہر آگئی ہے اور اس لئے آگے جو نشان بتایا گیا تھا اس کا بھی پتہ نہ لگا۔اور ہم ہر چو وال کی نہر پر جاپہنچے مگر سفر کی طوالت وقت کے زیادہ گزرنے سے معلوم ہوتی تھی گوشوق کی وجہ سے کچھ تکان نہ تھی۔میں نے اس بڑھے مزدور سے کہا کہ تم کہتے تھے میں راستہ سے واقف ہوں اور ہم کو بٹالہ سے چلے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ابھی تک وہ موڑ نہیں آتا یہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا کچھ پتہ نہیں لگتا۔الغرض جب ہم ہر چو وال پہنچے تو جا کر معلوم ہوا کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں۔اتفاقاً وہاں ایک آدمی مل گیا اور اس نے ہم کو ہماری غلطی پر آگاہ کیا۔اور ہم واپس ہوئے اور لیل کلاں کے قریب آکر پھر بھولے مگر اس وقت دو تین آدمی لیل سے نکل کر باہر جارہے تھے کہ انہوں نے ہم کو سیدھے راستہ پر ڈال دیا۔اس پریشانی میں اس رفیق سفر پر بہت غصہ آتا تھا مگر اس کا نتیجہ کچھ نہ تھا۔آخر اس راستہ پر جو لیل سے قادیان کو آتا ہے ہم قادیان کے باغ کے قریب پہنچے۔باغ کے پاس آئے تو آگے پانی تھا۔باغ کی طرف سے ہم نے آواز دی تو ایک شخص نے کہا چلے آؤ پانی پایاب