سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 137
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۷ صاحب نے ( جب کہ دفعتاً گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے ) دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی۔آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ میں (جو خود ان ہی کی ملکیت ہے ) قیام پذیر ہیں۔بزرگانِ ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی تقریباً تین ہزار آدمیوں کی ہے۔مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے۔نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے۔رستے کچے اور ناہموار ہیں بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آئی ہے اپنی نوعیت میں سب پر فوق لے گئی ہے۔آتے ہوئے یکہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کے رتھ نے لوٹنے کے وقت نصف کی تخفیف کر دی۔اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میں تو کیا آٹھ قدم بھی میں آگے نہ بڑھ سکتا۔اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔اور مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب جن کے اسم گرامی سے تمام انڈیا واقف ہے اور مولا نا عبدالکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھوم ہے۔مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر جن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔جناب میر ناصر نواب صاحب دہلوی جو مرزا صاحب کے خسر ہیں۔مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔ایل۔ایل۔بی ، ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز ، مولوی یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم۔جناب شاہ سراج الحق صاحب وغیرہ وغیرہ پرلے درجہ کی شفقت اور نہایت محبت سے پیش آئے۔افسوس مجھے اور اشخاص کا نام یاد نہیں ورنہ میں ان کی مہر بانیوں کا بھی شکر یہ ادا کرتا۔مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت قوی ہوتا ہے۔حصّہ اوّل