سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 129
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۹ ہوا۔میرے ساتھ جو صاحب تشریف لے گئے وہ مرزا صاحب کے دعویٰ الہام کی وجہ سے سخت مخالف تھے اور مرزا صاحب کو فریبی اور مگار سمجھتے تھے۔لیکن مرزا صاحب سے مل کر ان کے سارے خیالات بدل گئے اور میرے سامنے انہوں نے جناب مرزا صاحب سے اپنی سابق کی بدگمانی کے لئے معذرت کی ، مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھے کو بہت تعجب سا گزرا۔ایک چھوٹی سی بات لکھتا ہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔مجھ کو پان کھانے کی بُری عادت تھی۔امرتسر میں تو مجھے پان ملا۔لیکن بٹالہ میں مجھ کو کہیں پان نہ ملا ناچارالا چی وغیرہ کھا کرصبر کیا۔میرے امرتسر کے دوست نے کمال کیا کہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اس بُری عادت کا تذکرہ کر دیا۔جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی روانہ کیا دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھا چکا تو پان موجود پائے۔سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوائے گئے تھے۔حصّہ اوّل ( تائید حق صفحه ۵۵-۵۶) یہ واقعہ اس شخص نے بیان کیا ہے جو اسلامی جوش تبلیغ اور اپنی قربانی کے لحاظ سے بے غرض اور صاف گو تھا اور واقعہ اس زمانہ کا ہے جب کہ آپ کا کوئی دعوی مسیحیت یا مہدویت کا نہ تھا اور نہ آپ بیعت لیتے تھے۔ایک مہمان کی ضرورت سے واقف ہو کر اس قدر تر ڈ د اور کوشش کہ سولہ کوس کے فاصلہ سے پان منگوایا گیا۔مہمان نوازی کے اس وصف نے اس شخص کو جو ہندوستان کے تمام حصوں میں پھر چکا تھا اور بڑے بڑے آدمیوں کے ہاں مہمان رہ چکا تھا ، حیران کر دیا۔اس کی سعادت اور خوش قسمتی تھی کہ اسے سات سال بعد ۱۸۹۴ء میں پھر قادیان لا ئی اور اس کو حضرت اقدس کی غلامی کی عزت بخشی جس پر وہ ساری عزتوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔غرض یہ واقعہ بھی اپنی نوعیت میں ایک عجیب روشنی آپ کے وصف مہمان نوازی پر ڈالتا ہے۔