سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 128
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۲۸ حصّہ اوّل (۵) حضرت مولوی حسن علی صاحب کا واقعہ اور اعتراف مہمان نوازی حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری پہلے اسلامی مشنری تھے جنہوں نے ۱۸۸۶ء میں پٹنہ کے ایک سکول کی ہیڈ ماسٹری سے استعفیٰ دے کر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا اہم فریضہ اپنے ذمہ لیا۔وہ ۱۸۸۷ء میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسہ پر تشریف لائے اور امرتسر میں بابو محکم الدین صاحب مختار عدالت اور دوسرے لوگوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سنا۔اس وقت آپ نے کوئی دعوی نہیں کیا تھا۔اور نہ ابھی بیعت لیتے تھے البتہ براہین احمدیہ اور دوسری کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔اکثر نیک دل اور سلیم الفطرت لوگ آپ سے فیض پانے کے لئے قادیان بھی آتے رہتے تھے۔مولوی حسن علی صاحب مرحوم نے اپنے واقعہ کا خود اپنی قلم سے ذکر کیا ہے جو ان کی کتاب تائید حق میں چھپا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔”جب میں امرتسر گیا تو ایک بزرگ کا نام سنا۔جو مرزا غلام احمد کہلاتے ہیں ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان نامی میں رہتے ہیں اور عیسائیوں، برہموؤں اور آریہ سماج والوں سے خوب مقابلہ کرتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایک کتاب براہین احمد یہ نام بنائی ہے جس کا بڑا شہرہ ہے۔ان کا بہت بڑا دعویٰ یہ ہے کہ ان کو الہام ہوتا ہے۔مجھ کو یہ دعوی معلوم کر کے تعجب نہ ہوا۔گو میں ابھی تک اس الہام سے محروم ہوں جو نبی کے بعد محدث کو ہوتا رہا ہے لیکن میں اس بات کو بہت ہی عجیب نہیں سمجھتا تھا۔مجھ کو معلوم تھا کہ علاوہ نبی کے بہت سے بندگانِ خدا ایسے گزرے ہیں جو شرف مکالمہ الہیہ سے ممتاز ہوا کئے ہیں۔غرض میرے دل میں جناب مرزا غلام احمد صاحب سے ملنے کی خواہش ہوئی۔امرتسر کے دو ایک دوست میرے ساتھ چلنے کو مستعد ہوئے۔ریل پر سوار ہوا بٹالہ پہنچا۔ایک دن بٹالہ میں رہا پھر بٹالہ سے یکہ کی سواری ملتی ہے اس پر سوار ہو کر قادیان پہنچا۔مرزا صاحب مجھ سے بڑے تپاک اور محبت سے ملے۔جناب مرزا صاحب کے مکان پر میرا وعظ ہوا۔انجمن حمایت اسلام لاہور کے لئے چندہ بھی