سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 127 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 127

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ حصّہ اوّل پہلوؤں پر اس سے روشنی پڑتی ہے۔آپ کی سادگی اور بے تکلفی کی ایک شان اس سے نمایاں ہے۔اکرام ضیف کا پہلو واضح ہے۔اپنے احباب پر کسی بھی قسم کی برتری حکومت آپ کے قلب میں پائی نہیں جاتی۔اور سب سے بڑھ کر جو پہلو اس مختصر سے واقعہ میں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کو اپنے دوستوں ( جو آپ کے خادم کہلانے میں اپنی عزت و فخر یقین کرتے اور آپ کی کفش برداری اپنی سعادت سمجھتے ہیں ) کی تکلیف کا احساس از بس ہے۔ڈاکٹر صاحب کے پیدل چل کر آنے پر فوراً آپ کے قلب مطہر کو اس تکلیف کا احساس ہوا جو عام طور پر ایک ایسے شخص کو جو پیدل چلنے کا عادی نہ ہو دس گیارہ میل کا سفر کرنے سے ہوسکتی ہے۔غرض یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔(۴) مولوی علی احمد بھا گلپوری کا واقعہ مولوی علی احمد صاحب ایم۔اے بھاگلپوری بیان کرتے ہیں کہ میں جب پہلی مرتبہ دارالامان میں فروری ۱۹۰۸ء کو آیا۔جب حضرت اقدس مسیح موعود عَلَيْهِ التَّحِيَّةُ وَالسَّلام کا وجود باجود ہم میں موجود تھا۔یوں تو حضرت اقدس کی مہمان نوازی اور اکرام ضیف کے قصے زبان زد خاص و عام ہیں لیکن میں اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ علاوہ خلیل اللہ جیسی مہمان نوازی کے حضور کو اپنے ان خدام کے وابستگان کا جن کو اس دار فانی سے رحلت کئے ایک عرصہ گزر گیا تھا کتنا خیال تھا اور ان کی دلجوئی حضور فرماتے تھے۔میں جس دن یہاں پہنچاتو ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ اسلام متعینہ نائجیریا نے حضور کو ایک رقعہ کے ذریعہ مجھ جیسے بیچ میرز آدمی کے آنے کی اطلاع کی اور اس میں اس تعلق کو بھی بیان کیا جو مجھے حضرت مولانا حسن علی صاحب واعظ اسلام رضی اللہ عنہ سے تھا جن کی وفات فروری ۱۸۹۶ء میں واقع ہوئی تھی۔میں نے بچشم خود دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا کہ حضور نے مہمان خانہ کے مہتموں کو بلا کر سخت تاکید میری راحت رسانی کی فرمائی۔وہ بیچارے کچھ ایسے پریشان سے ہو گئے۔میں نے انہیں یہ کہہ کر کہ میں یہاں آرام اٹھانے اور مہمان داری کرانے کے لئے نہیں آیا ہوں میں اس مقصد کے حصول کی کوشش میں آیا ہوں جس کو لے کر حضور مبعوث ہوئے ہیں ان کو مطمئن کیا۔