سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 117 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 117

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا حصہ اول ذاتی زمین پر ایک مکان بنانے کا ارادہ کیا گیا اور فریق مخالف نے روکنے کا ارادہ کیا تھا تو ایک ہی دن میں وہ پورا مکان بن گیا تھا۔وہ ایام عجیب ایام تھے۔ابتلاؤں پر ابتلا آتے تھے اور جماعت ان ابتلاؤں کے اندر ایک لذیذ ایمان کے ساتھ اپنی ترقی کی منزلیں طے کرتی تھی۔غرض وہ دیوار چن دی گئی اور اس طرح ہم سب کے سب پانچ وقت کی نمازوں کے لئے مسجد مبارک میں جانے سے روک دیئے گئے۔اور مسجد مبارک کے لئے حضرت صاحب کے مکانات کا ایک چکر کاٹ کر آنا پڑتا تھا۔یعنی اس کوچہ میں سے گزرنا پڑتا تھا جو حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے مکان کے آگے سے جاتا ہے اور پھر منور بلڈنگ کے پاس سے بازار کی طرف کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کی طرف کو چلا جاتا ہے۔جماعت میں بعض کمزور اور ضعیف العمر انسان بھی تھے۔بعض نابینا تھے اور بارشوں کے دن تھے۔راستہ میں کیچڑ ہوتا تھا اور بعض بھائی اپنے مولی حقیقی کے حضور نماز کے لئے جاتے ہوئے گر پڑتے تھے۔اور ان کے کپڑے گارے کیچڑ میں لت پت ہو جاتے تھے۔ان تکلیفوں کا تصور بھی آج مشکل ہے جبکہ احمد یہ چوک میں پکے فرش پر سے احباب گزرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود اپنے خدام کی ان تکالیف کو دیکھ کر بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔مگر کچھ چارہ سوائے اس کے نہ تھا کہ حضرت رَبُّ الْعِزَّت کے سامنے گڑ گڑا ئیں۔غرض وہ دیوار ہو گئی۔راستہ بند ہو گیا۔اور پانی تک بند کر دیا گیا۔آخر مجبور اعدالت میں جانا پڑا اور عدالت کے فیصلہ کے موافق خود دیوار بنانے والوں کو اپنے ہی ہاتھ سے دیوار ڈھانی پڑی جو بجائے خود ایک نشان تھا اور اس کی تفصیل انہیں دنوں میں الحکم میں چھپ چکی ہے۔( دیکھوالحکم ۲۴ راگست ۱۹۰۱ء) عدالت نے نہ صرف دیوار گرانے کا حکم دیا بلکہ حرجانہ اور خرچہ کی ڈگری بھی فریق ثانی پر کر دی۔ناظرین خیال کریں گے کہ جس فریق نے آپ کو اور آپ کی جماعت کو اس قدر تکلیف دی ہو