سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 116 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 116

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام 117 حصّہ اوّل نے کہا کہ ”مرزا صاحب مشک کی ضرورت ہے کسی جگہ سے ملتی نہیں آپ کچھ مشک دیں۔“ حضرت صاحب کو علم تھا کہ یہ اس فتنہ میں ایک لیڈر کی طرح حصہ لیتا ہے۔حضرت صاحب نے بجز اس کے کچھ جواب نہیں دیا کہ ٹھہرو میں لاتا ہوں۔چنانچہ آپ اندر تشریف لے گئے اور قریباً نصف تو لہ مشک اس کے حوالہ کر دی۔یہ ہے عفو و عطا کی ایک عدیم المثل نظیر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کیریکٹر میں پائی جاتی ہے۔(۶) اپنے عم زاد بھائیوں کو باوجود اُن سے دکھ اٹھانے کے معاف کر دیا جن دوستوں کو قادیان آنے کا اتفاق ہوا ہے ان کو دفتر بیت المال اور محاسب کے محل وقوع کا پتہ ہے اور اس کے سامنے گول کمرہ ہے۔دفتر محاسب اور گول کمرہ کی دیوار کے درمیان سے بازار اور مسجد اقصیٰ کو راستہ جاتا ہے اور چھوٹی مسجد کو بھی۔آج سے چھپیس برس پیشتر نہ تو گول کمرہ کے سامنے کے احاطہ کی دیوار میں تھیں اور نہ دفتر محاسب کے کمرے تھے۔دفتر محاسب کے کمروں کی بجائے ایک چاردیواری بدوں چھت کے تھی اور اس جگہ کسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائیوں کا خراس ہوتا تھا۔بالآخر یہ جگہ خاکسار ایڈیٹر الحکم کے توسط سے خریدی گئی اور توسیع مسجد مبارک کے لئے اسے مخصوص کیا گیا۔نیچے دفاتر اور اوپر کا حصہ شامل مسجد مبارک ہو گیا۔غرض وہ گلی جو بازار اور جامع مسجد کو جاتی ہے ایک شارع عام تھی۔حضرت مسیح موعود کے چچا زاد بھائیوں میں سے مرزا امام الدین کو حضرت صاحب اور سلسلہ کے ساتھ عداوت اور عناد تھا۔اور وہ کوئی دقیقہ تکلیف دہی کا اٹھا نہ رکھتے تھے۔ایک مرتبہ اُس نے اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس راستہ کو جو بازار اور مسجد مبارک کا تھا ایک دیوار کے ذریعہ بند کر دیا۔دیوار ہماری آنکھوں کے سامنے بن رہی تھی اور ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ ہم کچھ نہ کر سکتے تھے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم تھی کہ شر کا مقابلہ شر سے نہ کرو۔ورنہ اگر چہ جماعت اس وقت بہت ہی قلیل تھی اور قادیان میں بہت ہی تھوڑے آدمی تھے لیکن اگر اجازت ہوتی تو وہ دیوار ہرگز نہ بن سکتی۔چنانچہ ایک دوسرے موقعہ پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے حضرت کی