سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 115
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۱۵ حصّہ اوّل حضرت اقدس کا فیصلہ سنادیا۔وہی تاریخ حکم سنانے کے لئے مقرر تھی۔پولیس کو قدرتی طور پر جو افسوس ہونا چاہیے تھا وہ ظاہر ہے۔مجسٹریٹ صاحب نے کہا کہ اب کیا ہوسکتا ہے؟ آپ کا کیا اختیار ہے؟ سرکار مدعی ہے۔تمام روئداد مقدمہ ختم ہو چکی ہے صرف حکم باقی ہے۔میں نے عرض کیا کہ کچھ بھی ہو حضرت صاحب نے معاف کر دیا ہے آپ کا جو اختیار ہے آپ کریں ہم کو یہی حکم ہے اور وہ آپ تک پہنچا دیا۔اس پر مجسٹریٹ صاحب بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جب حضرت صاحب نے معاف کر دیا تو میں بھی معاف ہی کرتا ہوں۔اور ملزموں کو مخاطب کر کے اس نے کہا کہ ایسا مہربان انسان کم دیکھا گیا ہے جو دشمنوں کو اس وقت بھی معاف کر دے جبکہ وہ اپنی سزا بھگتنے والے ہوں اور بہت ملامت کی کہ ایسے بزرگ کی جماعت کو تم تکلیف دیتے ہو۔بڑے شرم کی بات ہے آج تم سب سزا پاتے مگر یہ مرزا صاحب کا رحم ہے کہ تم کو جیل خانہ سے بچا دیا۔یہ واقعہ کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ قادیان میں کسی کو معلوم نہ ہو۔یہ وہ دشمن تھے جنہوں نے حضرت صاحب کے مہمانوں کے دامنوں میں پاخانہ ڈلوایا اور ایسا ذلیل فعل کیا جو انسانیت کو اس پر ماتم کرنا پڑتا ہے مگر باوجود اس کے آپ کے رحم اور عفوکو دیکھو کہ آخری وقت میں جبکہ وہ سزا کا حکم سننے کو تیار تھے معاف کر دیا۔عفو اور درگزر کی ایسی مثال کم ملے گی اسی کے ضمن میں مجھے ایک اور واقعہ کا اظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ (۵) نہال سنگھ بانگر و پر دوران مقدمہ میں احسان اسی مقدمہ کے دوران ایک شخص سنتا سنگھ بانگر و بھی ملزم تھا۔اس کا ایک چا نہال سنگھ بانگر و تھا۔ادھر اس نے فریق مخالف کو مقدمہ دائر کرنے پر آریوں کے ساتھ مل کر ا کسایا تھا چند ہی روز بعد اُسے مشک کی ضرورت پڑی اور یہ ظاہر بات ہے کہ وہ نہایت قیمتی چیز ہے۔میں اس وقت موجود تھا جبکہ وہ حضرت اقدس کے دروازہ پر گیا اور دستک دی۔حضرت صاحب باہر تشریف لائے اس