سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 114 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 114

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۱۴ حصّہ اوّل کہ ہمارے خلاف مقدمہ خطرناک طور پر ثابت ہومگر چونکہ اس کی بنا محض جھوٹ پر تھی اس لئے وہ پہلی ہی پیشی میں خارج ہو گیا اور دوسرے مقدمہ میں جو پولیس نے چالان کیا تھا ملزموں پر فرد جرم لگائی گئی۔آخر شہادت صفائی بھی گزرگئی اور اب صرف آخری مرحلہ تھا یعنی صرف فیصلہ اس کے متعلق یقینی تھا کہ ملزم سزایاب ہوں گے کیونکہ روئداد مقدمہ میں جرم ان پر ثابت ہو چکا تھا۔اس مرحلہ پر ملزمین لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملا وامل اور بعض دوسرے لوگوں کو لے کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت اقدس ان لوگوں سے اس مکان میں ملے جو حضرت صاحب زادہ مرزا شریف احمد صاحب کا حضرت صاحب زادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے اوپر بنا ہوا ہے۔اس موقعہ پر انہوں نے بڑی معذرت کی اور یہ بھی کہا کہ آپ کے بزرگ ہمیشہ ہم سے سلوک کرتے آئے ہیں اور یہ بھی بڑے موثق وعدوں کے ساتھ کہا کہ آئندہ ایسی حرکت سرزد نہ ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی عرضداشت کو سن کر معاف کر دیا۔اور مجھ کو حکم دیا کہ میں عدالت سردار غلام حیدر صاحب میں جا کر حضرت صاحب کی طرف سے کہوں کہ حضرت صاحب نے ان لوگوں کو معاف کر دیا ہے اور ہم نے مقدمہ چھوڑ دیا ہے۔میں نے واقعات کی صورت بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ مقدمہ پولیس نے چالان کیا ہے اس میں سرکار مدعی ہے۔سولہ ملزم ہیں پولیس سولہ ملزموں کا رہا ہو جانا کبھی پسند نہیں کرے گی۔اور ہمارے اختیار سے باہر ہے کہ ہم یہ مقدمہ بطور راضی نامہ ختم کر دیں کیونکہ ہم مدعی نہیں پھر مقدمہ ایسے مرحلے پر ہے کہ صرف حکم باقی ہے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ”ہمارے اختیار میں جو کچھ ہے وہ کر لینا چاہیے۔میں نے ان کو معاف کر دیا ہے۔میری طرف سے جا کر کہہ دیا جاوے کہ انہوں نے معاف کر دیا ہے۔ہم کو اس سے کچھ غرض نہیں ہم نے چھوڑ دیا ہے۔اگر عدالت منظور نہ کرے تو اس میں ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے فوراً چلے جاؤ۔“ دوسرے دن تاریخ تھی میں اور مفتی فضل الرحمن صاحب گئے اور عدالت میں جاکر