سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 113 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 113

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا موعود علیہ السلام ۱۱۳ حصّہ اوّل کہ ہماری کہیاں اور ٹوکریاں قادیان کے ظالم طبع دشمن نہیں لے جاتے تھے۔اس کی وجہ دراصل یہ تھی کہ چونکہ خود حضرت اقدس کے اقارب اور عم زاد بھائی (جن کا سردار مرزا امام الدین تھا ) دشمن تھے۔اس لئے اُن کی حمایت اور شہ سے ایسا ہوتا تھا۔سید احمد نور مہاجر جب اپنے ملک سے ہجرت کر کے قادیان آگئے تو انہوں نے ڈھاب میں ایک موقعہ پر حضرت اقدس کی اجازت سے اپنا مکان بنانا چاہا۔چنانچہ جب انہوں نے تعمیر مکان شروع کی تو قادیان کے سکھوں اور بعض برہمنوں نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کو اور اس کے بھائی کو مارا۔اس کشاکش میں ایک برہمن کو بھی چوٹ لگی اور اس کی پیشانی میں سے خون نکل آیا۔سید احمد نور بھی لہو لہان ہو گیا۔اس واقعہ کو دیکھ کر میں (راقم ) مرزا نظام الدین صاحب اور دفعدار چوکیدار ان کے پاس گیا اور ان کو موقع پر لا کر دکھایا کہ سکھوں کی بہت بڑی تعداد ( شاید ہی کوئی گھر میں رہا ہو ) اس موقع پر حملہ آوروں کی صورت میں موجود ہے۔مرزا نظام الدین صاحب ان کو وہاں سے ہٹا لائے اور سمجھایا۔حضرت صاحب کو میں نے اور مفتی فضل الرحمان صاحب نے اطلاع کی اور واقعات کا اظہار کیا۔آپ نے فرمایا کہ باہم صلح اور مجھوتہ کر دینا چاہیے جس طرح بھی ہو۔“ چنانچہ میں نے اور مفتی صاحب نے ہر چند کوشش کی۔ہماری موجودگی میں تو یہ سب لوگ یہی کہتے تھے کہ ہاں صلح ہو جانی چاہیے عدالت میں نہیں جانا چاہیے مگر دراصل اس شخص کو جس کی پیشانی سے خون نکلا ( اور اس کا نام پالا رام تھا) کو کہا کہ جا کر نالش کرو۔چنانچہ اس نے جا کر حضرت مولوی نورالدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور سید احمد نور پر نالش کر دی۔یہ مقدمہ سردار غلام حیدر خاں صاحب مزاری کے اجلاس میں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء یہی تھا کہ مقدمہ نہ ہو اور ہم ہر طرح صلح کی کوشش کرتے تھے۔لیکن جب کامیابی نہ ہوئی اور فریق مخالف نالش کرنے کے لئے چلا گیا تو چونکہ یہ بلوہ تھا اس لئے پولیس کو اطلاع دی گئی۔پولیس نے اپنی تفتیش سے جرم ثابت پا کر سولہ آدمیوں کا چالان کر دیا۔اور یہ مقدمہ بھی سردار غلام حیدر صاحب کے اجلاس میں تھا۔قادیان کے آریوں نے انتہائی کوشش کی