سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 110
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا 11۔حصّہ اوّل عمل کر کے دکھایا۔ایک وقت تھا کہ مارٹن کلارک نے مباحثہ امرتسر میں حضرت اقدس کو اور آپ کی جماعت موجودہ کو چائے کی دعوت دی مگر آپ نے غیرت اسلامی کی بناء پر اس دعوت کو مستر دکیا کہ یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو گالیاں دیتا ہے اور آپ کی تکذیب پر زور دیتا اور مسلمانوں کو برگشتہ کرنے کے لئے پورا زور لگاتا ہے اور مجھے دعوت دیتا ہے۔میری غیرت اس کو قبول نہیں کر سکتی کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کے ہاں چائے پیئوں۔اس حیثیت کا دشمن ہو اور پھر ذاتی طور پر اس نے حضرت مسیح موعود کو خطرناک سازش کا نشانہ بنانا چاہا ہو۔اس میں وہ بری ہوکر اپنے اور نبی کریم کے دشمن سے جائز طور پر انتقام لے سکتے تھے مگر آپ نے ایک منٹ کے لئے بھی اس کو گوارانہ فرمایا اور کوئی مقدمہ کرنانہ چاہا۔یہ عفو اور درگز را گرایسی حالت میں ہوتا کہ آپ کو قدرت نہ ہوتی تو اس کی کچھ قدرو قیمت نہ ہوتی لیکن یہ ایسے موقع پر آپ نے دکھایا کہ آپ کو حق تھا اور قانونی طور پر آپ سزا دلا سکتے تھے مگر آپ نے پسند نہ فرمایا اور معاف کر دیا۔یہ واقعہ ممکن ہے کہ کسی شخص کو شبہ میں ڈالے کہ شاید فریق مخالف کی طاقت اور رسوخ کے باعث ایسا نہ کیا گیا ہو لیکن یہ شبہ محض لغو اور بے اصل ہوگا۔اس لئے کہ اسی بارسوخ اور طاقتور فریق سے مقدمہ تو پہلے ہی ہو چکا تھا اور انہوں نے اپنے تمام رسوخ اور قوت سے کام لے لیا تھا بلکہ بعض بڑے پادریوں نے بھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کہا اور سفارش کی مگر مجسٹریٹ کا جواب یہ تھا کہ مجھ سے ایسی بدذاتی نہیں ہوسکتی کہ میں انصاف کو ہاتھ سے چھوڑوں۔تو یہ شبہ محض بے اصل ہے۔جس چیز نے حضرت اقدس کو روکا وہ ایک ہی چیز تھی کہ آپ اپنے دشمنوں سے انتقام نہیں لینا چاہتے تھے اور اپنے عمل سے درگز را ور عفو کا سبق دینا چاہتے تھے۔ڈاکٹر مارٹن کلارک کی ذات سے آپ کو کوئی دشمنی نہ تھی بلکہ آپ کو اس کے عقائد باطلہ اور اس کے اس طریق عمل سے نفرت تھی جو وہ اسلام کے متعلق رکھتا تھا۔اس لئے اگر آپ بذریعہ عدالت اس کو سز ا دلاتے تو اس غیرت مذہبی اور اخلاص فی الدین کے خلاف ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے فطرتا آپ کو دیا تھا اور اس میں نفسانیت کے کسی شائبہ کا شبہ بھی گزرسکتا تھا۔گوانصاف اور عقل کے نزدیک یہ