سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 108
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل الاسم حاصل ہوا۔اور وہ مکہ جہاں سے آپ بے حد تکالیف اٹھا کر ہجرت پر مجبور و مامور ہوئے تھے۔وہ مکہ جہاں آپ کے خادموں پر انتہائی مظالم اور ستم توڑے گئے اور نا اہل و ناحق شناس دشمنوں نے غریب اور ضعیف مسلمان عورتوں تک پر ظلم کئے جب آپ نے اس کو فتح کیا اور ایک شہنشاہ فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور آپ کو حق تھا کہ ان ظالموں کو ان کے ناسزا افعال کی سزا دیتے اور وہ اپنے کیفر کردار کو پاتے مگر آپ نے ان کو معاف کر دیا۔دنیا کی تاریخ میں عفو و رحم کی ایسی مثال نہ ملے گی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ آپ نے اپنے دشمنوں کے ساتھ اسی رنگ میں برتاؤ کیا جس کی مثالیں آپ کے آقا و محسن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نمایاں تھیں۔یہ سچ ہے کہ آپ کے سامنے آپ کے دشمن اس حیثیت میں نہیں آئے کہ آپ ایک فاتح سلطان کی طرح ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف حالات کا فرق ہے ورنہ صورت واقعات وہی تھی۔ایسی حالت میں دشمن آپ کے سامنے آتے ہیں کہ آپ جائز اور بجاطور پر ان سے انتقام لے سکتے ہیں اور آپ کو موقع اور اختیار حاصل ہے مگر آپ نے اس حالت میں تلخ سے تلخ دشمنوں کو معاف کیا ہے اور کبھی بھی تو یہ کوشش اور خواہش نہیں کی کہ ان سے انتقام لیا جاوے۔میں ان واقعات کو تاریخی ترتیب سے درج کرنے کی کوشش نہیں کروں گا۔اس لئے کہ یہاں یہ ترتیب مدنظر نہیں ہے بلکہ آپ کے اخلاق کی ایک شان کو دکھانا ہے۔(۱) شوکت میرٹھی کے متعلق میرٹھ سے احمد حسین شوکت نے ایک اخبار شحنہ ہند جاری کیا ہوا تھا۔یہ شخص اپنے آپ کو مجد دالسنہ مشرقیہ کہا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں اس نے اپنے اخبار کا ایک ضمیمہ جاری کیا۔جس میں ہر قسم کے گندے مضامین مخالفت میں شائع کرتا۔اور اس طرح پر جماعت کی دل آزاری کرتا۔میرٹھ کی جماعت کو خصوصیت سے تکلیف ہوتی کیونکہ وہاں ہی سے وہ گندہ پر چہ نکلتا تھا۔۲ اکتو بر ۱۹۰۲ء کا واقعہ ہے کہ میرٹھ کی جماعت کے پریذیڈنٹ جناب شیخ عبدالرشید صاحب جو ایک معزز زمیندار اور تاجر ہیں تشریف فرما تھے۔حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے