سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 107
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام دشمنوں سے سلوک عفوو درگزر کے حیرت انگیز نظارے حصّہ اوّل میں نے آپ کے خدام کے کچھ واقعات بیان کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسے حالات میں بھی عفو اور درگزر سے کام لیتے تھے جہاں بڑے بڑے عالی حوصلہ انسان بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور اپنے غیظ و غضب کے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے لیکن ان واقعات اور حالات کو دیکھ کر کوئی نادان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں محض دوستوں سے مخصوص تھیں مگر یہ بات نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق کی شان دشمنوں کے مقابلہ میں اور دشمنوں سے سلوک کرنے میں اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح ناصری اور مسیح موعود کا مقابلہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے یہ تعلیم تو بے شک دی ہے کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرومگر اس کا عملی نمونہ آپ کی زندگی میں نہیں پایا جاتا۔آپ کو وہ مقدرت اور موقع نصیب نہیں ہوا کہ آپ کے دشمن پکڑے ہوئے آپ کے سامنے آتے اور آپ ان کو معاف کر دیتے۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس خوش نما تعلیم کا معلم اس پہلو میں کن اخلاق کا مالک تھا۔اس سے نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ہتک نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور ومرسل اور نبی تھے اور قرآن کریم نے آپ کی شان اور عظمت کا ذکر فرمایا ہے۔جس پر ہر ایک مسلمان ایمان لاتا ہے۔اور میں بھی ایمان لاتا ہوں۔لیکن اس امر واقعہ کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کو یہ دولت نصیب نہیں ہوئی کہ اپنے عہد میں نہ تو اقتدار وحکومت کا کوئی موقع انہیں ملا اور نہ کوئی ایسی تقریب ہی پیدا ہوئی کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکتے تھے اور انہیں اس خُلق کے اظہار کا موقع ملا اور معاف کر دیا اور اس طرح پر اپنے دشمنوں سے محبت اور پیار کا کوئی نمونہ دکھا سکتے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو بہت ہی بلند اور اعلیٰ ہے جن کو یہ موقع على وَجْهِ