سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 106 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 106

1+4 حصّہ اوّل سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہ تو تقسیم ہوئے تھے اور نہ ڈاک میں ڈالے گئے تھے۔حضرت اقدس کو اطلاع ہوئی اور اس وقت اس کا علم ہو جا نالازمی تھا کیونکہ ان کے حجرہ کی تلاشی ہو رہی تھی۔پولیس کو یہ خیال تھا کہ کوئی خط و کتابت پائی جاوے جس سے اس قتل کا تعلق ہو اور حافظ صاحب چونکہ ایک قسم کے پوسٹ ماسٹر بنے ہوئے تھے اس لئے ان کے کاغذات کو دیکھا گیا تھا۔غرض جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علم ہوا اور وہ خطوط بھی پیش ہوئے تو آپ نے حافظ صاحب سے ہنستے ہوئے پوچھا کہ ” حافظ جی ! یہ خط رکھنے کے لئے تو نہیں دیئے گئے تھے اگر آج یہ نہ دیکھے جاتے تو پتہ بھی نہ لگتا اور ہم سمجھتے رہتے کہ خط لکھ دیا ہوا ہے۔ادھر دوسرے لوگ سمجھتے کہ ہم خط لکھ چکے ہیں۔خیر جو ہو گیا اچھا ہو گیا مصلحتِ الہی یہی ہوگی۔“ حافظ صاحب بیچارے شرمندہ اور نادم تھے مگر حضرت نے اس سے زیادہ نہ کچھ کہا اور نہ پھر کبھی ذکر ہی کیا کہ کوئی ایسا واقعہ ہوا تھا۔اور نہ ان کو اس ڈاک کے کام سے معزول کیا بلکہ وہی ہمیشہ جب تک زندہ رہے اور کام کرنے کے قابل رہے ڈاک خانہ سے جا کر ڈاک لاتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے دیئے ہوئے خطوط ڈاک خانہ میں جا کر پوسٹ کرتے۔