سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 88 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 88

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۸ حصّہ اوّل اس بیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاق فاضلہ کی اصل غرض بتا دی ہے اور عیسائیوں کے اس فلسفہ نجات کا استیصال کر دیا ہے جو وہ مسئلہ کفارہ کی بنیاد قائم کرنے کے لئے اس اصول پر قرار دیتے ہیں کہ عدل اور رحم یکجا جمع نہیں ہو سکتے آپ نے اس عام خیال سے ممتاز اصل بتایا ہے عدل کی حقیقت وَضْعُ الشَّيْءٍ فِي مَحَلَّه ہے اور یہ تمام صفات کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے فلسفہ اخلاق پر بحث کرنے والوں میں سب سے ممتاز طریق یہی ہے۔(۳) اخلاق فاضلہ کی علت غائی کیونکر پیدا ہو اخلاق فاضلہ کی تقسیم تعریف اخلاق فاضلہ کی تقسیم و تجدید ) اخلاق فاضلہ کے صدور کا مقام و محل اور اخلاق فاضلہ کی غرض و غایت کو پہلے تمام اخلاقین سے ممتاز طریق پر آپ نے بیان کر کے پھر حصول اخلاق کے طریقوں میں بھی یگانہ رنگ اختیار کیا ہے۔اس بارہ میں تربیت و تعلیم کا جوطریق امام غزالی نے یا دوسرے اخلاقین نے بیان کیا ہے وہ اخلاق کی ظاہری حالت سے متجاوز نہیں ہوتا۔اس لئے کہ انہوں نے اخلاق فاضلہ کی علت غائی پر بحث نہیں کی اور سطحی طور پر اس سے گزر گئے ہیں مگر حضرت مسیح موعود نے انسانی پیدائش کی علت غائی کو مد نظر رکھ کر اس پر بحث کی ہے۔حصول اخلاق کے لئے یہ اصل بتایا کہ اولاً نیت درست ہو۔حضرت نبی کریم ﷺ نے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ اور آج تیرہ سوسال کے بعد واضعانِ قوانین نے افعال میں نسیت کو مقدم کیا ہے جب تک نیت کی تصریح نہ ہو کوئی جرم، جرم نہیں سمجھا جاسکتا۔اور یہ اصل حضرت مسیح موعود نے اپنے آقا سید ولد آدم میہ اور قرآن مجید ہی سے لی ہے آپ نے خطرات اور عزیمت میں فرق کر کے بتایا ہے کہ مجرد خطرات پر مواخذہ نہیں ہے اس لئے کہ وہ انسانی فطرت کے قبضہ میں نہیں ہیں لیکن جب انسان عزیمت کر لیتا ہے تو وہ قابل مواخذہ ہو جاتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے " وَلكِنْ يُؤَاخِذُكُمُ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ (البقرة: ۲۲۶) یعنی جن گناہوں کو دل اپنی عزیمت سے حاصل کرے ان گناہوں کا مواخذہ ہوگا۔یہ نہایت قیمتی اور نا دراصل ہے جس سے دنیا کے تمام دوسرے مذاہب اور ان کی کتب خالی