سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 87
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ حصہ اول پیدا نہیں ہو سکتی۔اور اسی لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاق فاضلہ میں اگر عدل یعنی بر محل صدور کا التزام نہ ہو تو اس سے یہ حقیقت نہیں پیدا ہوسکتی چنانچہ فرماتے ہیں۔یادر ہے کہ احسان کے معاملہ میں ہر ایک شخص کو ایثار تو درست ہے یعنی اپنا حق بطور احسان کے دوسرے کو دے دے مگر یہ جائز نہیں کہ کسی دوسرے کا حق احسان میں تلف کرے اسی طرح عفو میں یہ جائز نہیں کہ ایسے موقع میں کہ مقتضا عدل کا قصاص ہو عفو کرے لیکن یادر ہے کہ عدل سے مراد و ضَعُ الشَّيْءٍ فِي مَحَلَّه ہے۔اور جمع ہونا عدل اور عفو یا عدل اور احسان یا عدل اور انتقام کا ایک محل میں اجتماع ضدین میں سے نہیں ہے اور عدل میں بہر حال سزا دینا لازم نہیں بلکہ حقیقت عدل کی یہ ہے کہ جو ایک امر باعث اکثر اغلب لوگوں کی بھلائی کا ہے وہی بجالا یا جائے یعنی وضع شے کا اپنے محل پر کیا جائے۔اس صورت میں عدل اور اخلاق فاضلہ میں کچھ تضاد نہیں بلکہ اخلاق فاضلہ وہی اچھے ہیں کہ جب عدل کے ساتھ جمع ہوں اور جو علت غائی اخلاق فاضلہ کی ہے یعنی اتصال بالمبدء کے لئے ذریعہ ہونا وہ تبھی متحقق ہو سکتی ہے کہ جب بشمول عدل اخلاق فاضلہ صادر ہوں کیونکہ خداوند تعالیٰ حق محض ہے اور ہر ایک امر جو حقانیت سے خالی ہو وہ ذریعہ اس کے حصول کا نہیں ہوسکتا۔بلکہ اس سے بعد اور دوری پیدا ہوتی ہے اور اس جگہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اخلاق فاضلہ فی نفسہ کچھ چیز ہی نہیں بلکہ وہ اس لئے استعمال میں لائے جاتے ہیں کہ تا حصول وصال الہی کے لئے وسائل ہوں۔پس وہ اسی حالت میں وسیلہ ٹھہر سکتے ہیں کہ جب عَلَى وَجْهِ الْحَقِّ وَ الْحِكْمَةِ صادر ہوں کیونکہ جب اخلاق عَلَى وَجْهِ الْحَقِّ وَالْحِكْمَةِ صادر ہوں گے تو انسان کو التزام حق کا ایک ملکہ پیدا ہو جائے گا اور وہ حقانی طرح کا آدمی بن جائے گا اور یہ امر اس کے لئے باعث اتصال بالمبدء کا ہے کیونکہ التزام حق کو بجز مبدء قدیم کے اور کسی چیز سے تشبیہ اور مناسبت نہیں اور جب تک انسان تخلق باخلاق اللہ اختیار نہ کرے درجہ محویت کا اس کو حاصل نہیں ہوسکتا۔(الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵، صفحہ ۳ کالم نمبر ۲۱)