سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 86
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا (۱) اخلاق فاضلہ کا صدور برمحل ۸۶ حصّہ اوّل آپ سے پہلے جن لوگوں نے فلسفہ اخلاق پر بحث کی ہے انہوں نے اس بات کی تصریح نہیں کی مثلاً وہ احسان کو عمدہ چیز بتائیں گے لیکن اس کو عدل کے ساتھ نہیں رکھیں گے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ اخلاق فاضلہ اسی وقت اخلاق فاضلہ ہیں جب ان کا صدور برمحل ہو اور اس میں رعایت عدل ہو اور یہ اصول آپ نے قرآن مجید کی اس آیت سے مستنبط کیا ہے۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبى ( النحل (٩١) چنانچہ فرمایا احسان کو خدا تعالیٰ نے عدل سے مؤخر کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ احسان وہی قابل تعریف ہے کہ جس میں عدل کی رعایت مفقود نہ ہو۔یعنی وضع شے کا غیر محل میں نہ ہو کیونکہ عدل کے یہی معنے ہیں جو ہر ایک شے کو اپنے محل پر وضع کریں۔پس ایسا احسان کہ مثلاً کوئی شخص چوری کر کے کسی کو مروت سے کچھ دے دے یہ احسان جائز نہیں ہے کیونکہ یہ عدل کی پابندی سے نہیں یا مثلاً ایسا احسان کہ حق دار کے حق سے تغافل کر کے کسی دوسرے سے سلوک کرے۔اسی طرح ایک خلق فاضل جو احسان میں داخل ہے وہ عدل کی پابندی سے محمود ہے اور اگر عدل کی پابندی نہ رہے یعنی ایسا رحم ہو کہ جس میں عدل فوت ہو جائے یا ایسا عفو ہے کہ جس میں عدل فوت ہو جائے وہ جائز نہیں۔“ الحکم مورخ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳ کالم نمبرا) (۲) اخلاق فاضلہ اتصال بالمبدء کے لئے ہیں دوسری بات جو اخلاق فاضلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اصولی طور پر بتائی ہے وہ یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ کی علت غائی اتصال بالمبدء ہے۔انسان کی پیدائش کی علت غائی خدا تعالیٰ کا فرمانبردار عبد بننا ہے۔اس لئے جب تک اس میں یہ حقیقت اخلاق فاضلہ کی نمایاں نہ ہو یہ بات