سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 84 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 84

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۴ ہے لیکن تربیت و تعلیم سے خوش اخلاق ہو سکتا ہے۔رواقین اس کے خلاف تھے۔اور انسان کو بالطبع پاکیزہ خو خیال کرتے تھے۔جالینوس نے ان دونوں مذہبوں کو اس دلیل سے باطل کیا تھا کہ مثلاً اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ تمام آدمی حلقہ ایک ہیں تو کوئی شخص تعلیم سے بھی شریر نہیں ہوسکتا۔خود تو اس میں سرے سے شرارت کا مادہ ہی نہیں، دوسروں سے سیکھ سکتا تھا۔لیکن پہلے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ تمام آدمی نیک ہیں اس لئے جب خود سکھلانے والے میں شرارت کا وجود نہیں تو وہ کسی دوسرے کو شرارت کی تعلیم کیونکر دے سکتا ہے؟ جالینوس کا ذاتی مذہب یہ ہے کہ بعض انسان بالطبع شریر ہوتے ہیں بعض بالطبع نیک بعض دونوں کے بیچ بیچ میں ہوتے ہیں اور صرف یہی اخیر فرقہ اصلاح کے قابل ہوتا ہے۔ارسطو نے کتاب الاخلاق میں یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ بداخلاقی یا خوش اخلاقی کوئی چیز انسان کی طبعی اور جہتی نہیں جو کچھ ہے تعلیم و تربیت کا اثر ہے البتہ تعلیم وتربیت کی قابلیت کے مدارج مختلف ہیں۔امام صاحب نے ارسطو کی رائے اختیار کی وہ لکھتے ہیں کہ موجودات کی دو قسمیں ہیں۔ایک وہ جو مکمل طور پر پیدا ہوئیں اور ہمارے اختیار سے باہر ہیں مثلاً آفتاب، ماہتاب، زمین۔دوسرے وہ جو ناقص پیدا کی گئیں اور ان میں یہ قابلیت رکھی گئی ہے کہ تربیت سے کامل ہو جائیں۔مثلاً کسی درخت کا پیج کہ اس وقت وہ بیج ہے لیکن درخت بن سکتا ہے۔اخلاق انسانی اسی دوسری قسم میں داخل ہیں۔اس قدر ضرور ہے کہ تمام آدمیوں کی جبلتیں یکساں نہیں ہیں بعض کے اخلاق بآسانی اصلاح پذیر ہو سکتے ہیں اور بعض کے بمشکل۔66 حصّہ اوّل الغزالی مصنفہ علامہ شبلی نعمانی صفحه ۳۰،۱۲۹ از سریعنوان احیاء العلوم کا فلسفہ اخلاق) لے رواقین یونانی فلسفہ اخلاق کا وہ مذہب ہے جس کی تعلیم یہ تھی کہ انسان کو رنج و راحت غم و مسرت دونوں سے غیر متاثر رہنا چاہیے اور جو کچھ پڑے اسے صبر وسکون کے ساتھ جھیلنا چاہیے۔اس کا بانی زمینو ہوا ہے۔( ۳۰۸ قبل مسیح ) ( ایڈیٹر )