سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 82 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 82

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۸۲ حصّہ اوّل اقسام خلق کے بیان میں حضرت مسیح موعود کا یگانہ طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلق کے اقسام یا ارکان بیان کرنے میں بھی جس جدت کو اختیار کیا ہے وہ بجائے خود ایک اعجازی رنگ رکھتی ہے۔غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ۔خلق کے اقسام بہت ہیں لیکن اصلی ارکان جس سے اور تمام شاخیں نکلتی ہیں چار ہیں۔علم ، غضب، شہوت اور عدل۔انہیں قوتوں کے اعتدال کا نام حسن خلق ہے“ الغزالی مصقله علامہ شبلی نعمانی صفحه ۲۷ از سر عنوان احیاء العلوم کا فلسفہ اخلاق) الغزالی کے مصنف مولانا شبلی نے رکن چہارم عدل کا خود ہی انکار کر کے تین رکن اخلاق کے بتائے ہیں۔مجھ کو یہاں اس پر تبصرہ اور تنقید نہیں کرنا ہے کہ غزالی اور شبلی میں سے کون حق پر ہے بلکہ مجھ کو یہ دکھانا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے تقسیم اخلاق میں جو طریق اختیار کیا ہے وہ ممتاز ویگا نہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے طبعی حالتوں کی تعدیل اور ترتیب اور برمحل استعمال کو اخلاق قرار دیا۔اور اس کی اقسام میں بتایا کہ۔اخلاق دو قسم کے ہیں۔اوّل وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ترک شر پر قادر ہوتا ہے۔دوسرے وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ایصالِ خیر پر قادر ہوتا ہے اور ترک شر کے مفہوم میں وہ اخلاق داخل ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کوشش کرتا ہے کہ تا اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنی آنکھ یا اپنے کسی اور عضو سے دوسرے کے مال یا عزت یا جان کو نقصان نہ پہنچاوے یا نقصان رسانی اور کسر شان کا ارادہ نہ کرے اور ایصال خیر کے مفہوم میں تمام وہ اخلاق داخل ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کوشش کرتا ہے کہ اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنے مال یا اپنے علم یا کسی اور ذریعہ سے دوسرے کے