سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 62 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 62

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۲ حصّہ اوّل خدمت میں آپ اس قدر مصروف اور خود رفتہ رہتے تھے کہ کھانے کے اوقات یا اقسام کا خیال تک بھی نہ آتا تھا۔اگر لذائذ زندگی اور حظ نفس ملحوظ ہوتا تو صبح سے شام تک انہیں چیزوں میں مصروف رہتے مگر یہاں حالت بالکل الگ واقع ہوئی۔بڑے بڑے آدمیوں کی زندگیوں کے کھانے پینے کے اوقات کی پابندی بھی ایک ضروری چیز کبھی گئی ہے۔اور حقیقت میں ایک قابل قدر چیز ہے۔لیکن جو شخص خدمت اسلام کو ہی مقدم کر چکا ہو اور جس کی زندگی کی غایت اور مقصود یہی ایک چیز ہو وہ اس کی طرف ایک طفیلی چیز کی طرح توجہ کرتا ہے نہ اصل مقصد کے رنگ میں۔آپ کا یہ استغراق خدا کے لئے تھا اپنے نفس کے لئے یا کسی کی وجہ سے نہ تھا۔خوردن برائے زیستن و ذکر کردن پر عمل حسنِ عقیدت کی بنا پر نہیں بلکہ واقعات نفس الامری کے طور پر کہتا ہوں کہ آپ نے کھانے کا اہتمام والتزام اس نیت سے کبھی نہ کرایا کہ وہ حفظ نفس کا کوئی ذریعہ ہوسکتا ہے بلکہ مقصد خوردونوش سے مقصد حیات تھا اور متعدد واقعات اس کو بتاتے ہیں کہ آپ نے بعض چیزوں کو ایسے طور پر استعمال کیا جس سے زبان کوئی لطف ذائقہ نہیں اٹھ سکتی تھی۔اور یہ دلیل تھی اس امر کی کہ آپ کسی چیز کو ضرور تا قیام زندگی کا ایک موجب سمجھ کر استعمال کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ کے پاس بہت سے سیب آئے اور جہاں تک مجھ کو یاد ہے یہ ڈالی میاں حاجی عمر ڈار مرحوم نے بھجوائی تھی۔آپ بجائے اس کے کہ سیب کو تراش کر کھاتے چند دانے لے کر ان کا پانی نکلوایا اور پی لیا۔اور فرمایا کہ ”میں اس لئے پیتا ہوں کہ قلب کے لئے مفید ہے۔آپ کی زندگی میں اس قسم کے واقعات بہت ملیں گے۔ادویات کا استعمال آپ ادویات کا استعمال بھی فرماتے تھے اور پوری مقدار کھایا کرتے تھے۔صبر کی گولیاں جن کو آپ پیٹ کی جھاڑو فرمایا کرتے تھے ہر وقت رومال میں بندھی رہتی تھیں۔ایسا ہی مشک بھی اس لئے کہ دوران سر کا دورہ بعض وقت اچانک ہو جاتا تھا۔