سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 61 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 61

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل اور ایسا تصرف ہے کہ گویا اپنا ہی گھر اور اثاث البیت ہے اور حضرت کے کھانے کے متعلق کبھی ذہول اور تغافل بھی ہو جائے تو کوئی گرفت نہیں۔کبھی نرم لفظوں میں بھی یہ نہ کہا کہ دیکھو یہ کیا حال ہے؟ تمہیں خوف خدا کرنا چاہیے۔یہ باتیں ہیں جو یقین دلاتی ہیں کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما نا سچ ہے کہ میں اپنے رب کے ہاں سے کھاتا اور پیتا ہوں۔اور حضرت امام علیہ السلام بھی فرماتے ہیں ؎ من می زیم بوحی خدائے کہ با من است پیغام اوست چون نفس روح پر ورم حقیقت میں اگر یہ سچ نہ ہو تو کون تاب لاسکتا ہے اور ان فوق العادت فطرت رکھنے والے انسانوں کے سوا کس کا دل گردہ ہے کہ ایسے حالات پر قناعت کر سکے۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۳۰،۲۹) خدمت دین میں کھانے کا خیال بھی نہ رکھتے تھے مجھے یاد ہے کہ حضرت لکھ رہے تھے ایک خادمہ کھا نالائی اور حضرت کے سامنے رکھ دیا اور عرض کیا کھانا حاضر ہے فرمایا خوب کیا مجھے بھوک لگ رہی تھی اور میں آواز دینے کو تھا۔وہ چلی گئی اور آپ پھر لکھنے میں مصروف ہو گئے۔اتنے میں کتا آیا اور بڑی فراغت سے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا اور برتنوں کو بھی خوب صاف کیا اور بڑے سکون اور وقار سے چل دیا۔اللہ! اللہ! ان جانوروں کو بھی کیا عرفان بخشا گیا ہے وہ کتا اگر چہ رکھا ہوا اور سدھا ہوا نہ تھا مگر خدا معلوم اسے کہاں سے یہ یقین ہو گیا کہ یہ پاک وجود بے شر اور بے ضرر وجود ہے اور یہ وہ ہے کہ جس نے کبھی چیونٹی کو بھی پاؤں تلے نہیں ملا اور جس کا ہاتھ دشمن پر بھی نہیں اٹھا۔غرض ایک عرصہ کے بعد ظہر کی اذان ہوئی تو آپ کو پھر کھانا یاد آیا۔آواز دی۔خادمہ دوڑی آئی۔عرض کیا کہ میں مدت ہوئی کھانا آپ کے آگے رکھ کر آپ کو اطلاع کر گئی تھی اس پر آپ نے مسکرا کر فرمایا اچھا تو ہم شام کو ہی کھائیں گے۔میں نے یہ واقعات آپ کی خوراک دکھانے کے سلسلہ میں بیان کئے ہیں لیکن بادنی تامل یہ بات ان سے ظاہر اور ثابت ہے کہ آپ کا مقصد عالی ان چیزوں سے بالکل دور تھا۔اسلام کی