سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 56 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 56

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۶ حصّہ اوّل طیور کے شوربے کو بھی آپ پسند فرماتے تھے۔انہیں ایام میں اس کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔بعض وقت ایک چڑیا بھی کافی ہوتی تھی۔ایک زمانہ تک آپ دونوں وقت کا کھانا مہمانوں کے ساتھ کھاتے تھے۔لیکن جب آپ کی بھوک بند ہوگئی اور کھانے سے گونہ نفرت ہو گئی تو آپ نے اس عادت کو مہمانوں کے آرام کے لئے ترک کر دیا۔اس لئے کہ آپ دستر خوان پر اس وجہ سے کہ طبیعت میں خواہش نہ تھی بیٹھ نہ سکتے تھے اور اگر جلد اٹھ جائیں تو احتمال تھا کہ کوئی مہمان بھوکا نہ رہ جائے۔پس آپ نے یہ وجہ بیان کر دی اور مہمان پھر اپنے وقت پر کھانا کھاتے رہے۔گرمی کے موسم میں جب آم کی فصل ہوتی تو آپ گڑ مبا بھی کبھی کبھی تیار کراتے تھے اور کھایا کرتے تھے۔کھانے میں مجاہدہ مکرم میر صاحب نے کھانے کے متعلق مجاہدہ کا ذکر کیا ہے لیکن یہ بیان نا تمام اور ناقص رہ جائے گا اگر میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ہی اس کو بیان نہ کر دوں چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو۔بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع اقسام کے بدعات میں مبتلا ہیں۔ہاں حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے