سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 612
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۱۲ حصہ پنجم اور وہ تین کو چار کر نے والا ہوگا ( اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے ) دوشنبہ ہے مبارک دو شنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مَظْهَرُ الاَوَّلِ وَالْآخِر مَظْهَرُ الْحَقِّ وَ الْعَلَاءِ كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ - جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں سے اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وَكَانَ أَمْرًا (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۹۵ ۹۶ طبع بار دوم ) ا (الف) خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔وہ آسمان سے اتریگا۔اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دیگا۔وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا۔اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دیگا۔فرزند دلبند گرامی ارجمند۔مَّقْضِيًّا - مَظْهَرُ الْحَقِّ وَ الْعَلَاءِ كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه۱۸۰) (ب) ” ایک اولی العزم پیدا ہو گا۔وہ حسن اور احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔وہ تیری ہی نسل سے ہوگا۔فرزند دلبند گرامی ارجمند - مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۲ ۲۴۳) کے یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں۔بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے۔جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے۔اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ اعلی واولی و اکمل وافضل واتم ہے۔کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے۔۔۔جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے۔مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ واحسانه و برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیاء موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔مُردوں کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے۔اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔مگر ان روحوں اور اس رُوح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔“ (اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ ء روز دوشنبه مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۹۹ ۱۰۰ اطبع بار