سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 608
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۰۸ حصہ پنجم (۳) '' ایک مرتبہ مسجد میں بوقت عصر یہ الہام ہوا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں یہ سب سامان میں خود ہی کرونگا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔66 (۴) هر چه باید نو عروسے را ہماں سامان کنم “ وانچه مطلوب شما باشد عطائے آن کنم اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے۔چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی کا تعلق بخشا۔اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا۔جو دہلی ہے اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی۔۔۔۔۔۔اور جیسا کہ لکھا گیا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندان سیادت میں میری شادی ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیا دحمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کر یگا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولا د پیدا کرے جو ان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے۔اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔“