سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 546 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 546

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴۶ اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائے گا زر بے شمار یہ میں نے بطور نمونہ آپ کے کلام کا ایک ٹکڑا پیش کیا ہے ورنہ آپ کے ملفوظات آپ کی تالیفات میں یہی ایک چیز ہے جس کا مختلف رنگوں میں اور مختلف اسالیب بیان سے ذکر کیا ہے اس دعا میں بھی خدا تعالیٰ کی محبت ہی کو طلب کیا اور اسی محبت میں دائماً سرشار اور مست رہے اور اسی مئے محبت سے ایک جماعت کو مست و بے تاب کر دیا اور اب وہ اسی رنگ میں رنگین ہے۔دلبر کی راہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہوشیار ساری دنیا اک باولا یہی ہے ان اشعار پر غور کیجئے کہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصد زندگی کو آئینہ کر دیا ہے اور دنیا کی عزتوں اور شہرتوں پر لات مار کر آپ نے وہ مقام حاصل کیا کہ اپنے قلب کو عرشِ رب العالمین پایا۔نادان معرفت سے بے خبر اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ نوافل سے بندہ اس قدر قرب الہی حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے جوارح اور اعضا اعضائے حق ہو جاتے ہیں۔بہر حال یہ دعا آپ نے اس زمانے میں بیت الحرام میں بالواسطہ کی جب کہ آپ کو دنیا والے جانتے بھی نہ تھے اور آپ گوشہ ء گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اس دعا کے پڑھنے سے آپ کا پتہ لگتا ہے اور اس درد کا اندازہ ہوتا ہے جو غلبہ ء اسلام کے لئے آپ کے دل میں تھا۔(۱۲) ایک اور دعا اے رب العالمین ! تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کرسکتا تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو۔اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے