سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 539
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳۹ اور آرزوؤں کی منتہا آپ ہی ہیں آپ ہی کو آپ سے مانگتا ہوں اس دعا کی مثال تیرہ سوسال کے اندر دکھاؤ۔و آنچه میخواهم از تو نیز توئی اس دعا کی قبولیت کی کیفیت بھی سن لو خدا تعالیٰ نے آپ پر وحی کی اَنتَ مِنِّى وَأَنَا مِنْكَ اور پھر فرمایا انتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَ تَفْرِيدِی۔تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تو مجھ سے میری توحید اور تفرید کے مقام پر ہے۔حق وصداقت کے دشمن اور معرفت الہی سے بے بہرہ و بدنصیب اس قسم کے الہامات پر جہالت سے اعتراض کرتے ہیں لیکن یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام اور شان کو ہی ظاہر نہیں کرتے بلکہ آپ کی اس حیثیت عبودیت کو بھی ظاہر کرتے ہیں جو آپ نے اپنے عمل سے ظاہر کی۔آپ کی تمام تحریروں کو پڑھیں۔آپ کی ان تقریروں پر غور کریں جن کی اشاعت کی توفیق اس گنہ گار کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محض فضل سے دی۔خدا تعالیٰ کی حمد و شامیں آپ ہر وقت رطب اللسان ہیں اور اپنی انکساری و ناتوانی و بے کسی کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں۔بلکہ اس کا آپ کے قلب پر اس قدر غلبہ ہے کہ جب اس سلسلہ کو شروع کرتے ہیں تو اسی میں محو ہو جاتے ہیں اور یہاں تک کہہ جاتے ہیں۔ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار اس انکساری اور فروتنی نے آپ کو وہ عظیم الشان مقام دیا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا انتَ مِنى وَأَنَا مِنْكَ (۱۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا بیت اللہ میں یہ دعا آپ نے لکھ کر حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور کو دی تھی جب کہ وہ حج کے لئے تشریف لے گئے تھے۔منشی احمد جان صاحب مرحوم صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب پیر منظور محمد صاحب کے والد ماجد تھے اور خود صاحب سلسلہ تھے مگر آپ نے اس حق کو پایا۔اور اپنے مریدین اور اولا د کو قبول حق کی