سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 535 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 535

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳۵ حصہ پنجم میں چاہتا ہوں کہ قارئین کرام ہمیشہ آپ کی دعاؤں کے سلسلہ میں ان باتوں کو مدنظر رکھیں۔ایک بات اور بھی میں کہہ جانا چاہتا ہوں کہ ناظرین اسی نکتہ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ہی وہ وجود ہے جس نے دعاؤں کی قبولیت کو بتایا اور دعا کی اہمیت اور اس کے اثرات کو عملی صورت میں اس زمانہ کے فلسفیوں اور منکروں کے سامنے پیش کیا اور دعا ہی کو تمام مشکلات کی کلید ثابت کر دیا۔یہاں تک کہ ایک موقع پر فرمایا کہ انگریزی کے لئے چالیس تہجد کافی ہیں۔مگر یہ کوشش نہیں کرتا تا کہ میرے دوستوں کو ثواب کا موقع حاصل رہے۔غرض سب سے بڑا اور زبردست حربہ جو آپ کے ہاتھ میں تھا وہ دعا ہی تھا۔آپ کی طبیعت پر دعا کا رنگ اس قدر غالب تھا کہ معمولی سلسلہ کلام میں جو آپ کبھی نثر یا نظم کی صورت میں لکھتے تو جھٹ گریز کر کے دعا کی طرف چلے جاتے۔ان اشارات کے بعد آپ کی ایک ابتدائی منظوم دعا کو پیش کرتا ہوں۔قارئین کرام پڑھیں اور لطف اٹھائیں۔(خاکسار عرفانی) مناجات (1) اے خداوند خلق و عالمیاں خلق و عالم ز قدرت حیران (۲) چہ مہیب است شان و شکوت تو چه عجیب است کار و صنعت تو (۳) گردش آسمان از تست مدام کوه ها را به شست استحکام (۴) نام تو پاک و شان تو صدی است بادشاہی و سلطنت ابدی است لا ترجمہ اشعار۔(۱) اے مخلوقات اور موجودات کے مالک یہ مخلوق اور جہاں تیری قدرت پر حیران ہے۔(۲) تیری شان و شوکت کتنی پُر ہیبت ہے تیرے کام اور صنعت کس قدر عجیب ہیں۔(۳) آسمان کی دائمی گردش تیری ذات سے ہے پہاڑوں کو تجھ سے استحکام حاصل ہے۔(۴) تیرا نام پاک اور تیری شان بے نیازی ہے تیری بادشاہی اور سلطنت ابدی ہے۔(نوٹ۔پہلے چار اشعار کا ترجمہ ناشر کی طرف سے دیا گیا ہے)