سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 27
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا علیہ السلام ۲۷ حصہ اول نے تصفیہ نہیں کیا اور لاکھوں اسرار الہی پردہ غیب میں دبے پڑے ہیں۔جن کی عقلمندوں کو ہوا تک نہیں پہنچی۔ایک فصلی لکھی جو پلید اور ناپاک زخموں پر بیٹھتی ہے اور اکثر گدھے یا بیل وغیرہ جو زخمی اور مجروح ہوں ان کو ستاتی ہے اس کے اس عجیب خاصہ پر کوئی فلسفی دلیل عقلی نہیں بتلا سکتا کہ وہ اکثر برسات میں تکون کے طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی اولا دصرف کیڑے ہوتے ہیں کہ جو ایک ایک سیکنڈ میں دس دس ہیں نہیں تھیں تھیں اس کے اندر سے نکلتے جاتے ہیں کیا یہ عقل کے برخلاف ہے یا نہیں کہ مادہ اور نر دونوں نوع واحد میں داخل ہوں اور ان کے بچے ایسے ہوں کہ اس نوع سے بکلی خارج ہوں۔ایسا ہی اگر چھپکلی کو ( جس کو پنجاب میں کر لی کہتے ہیں ) درمیان سے کاٹا جائے تو اس کا نیچے اور اوپر کا دھڑ دونوں الگ الگ تڑپتے ہیں اور مضطر بانہ حرکت کرتے ہیں اگر بقول پنڈت دیا نند صاحب روح بھی جسم کی قسم ہے تو اس سے ضرور لازم آتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہو گیا ہو اور اگر روح کو جسم اور جسمانی ہونے سے منز ہ خیال کریں اور اس کا تعلق جسم سے ایسا ہی مجہول الکیفیت و برتر از عقل و فہم خیال کریں جیسے روح کا حدوث برتر از عقل و فہم ہے تو پھر البتہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ہاں پنڈت دیا نند کا مذہب جڑھ سے اکھڑتا ہے۔اسی طرح عقلمندوں کی عقل ناقص کی تراش وخراش پر بہت اعتراض اٹھتے ہیں اور ان کو آخر کا رنہایت شرمساری سے منہ کے بل گرنا پڑتا ہے اور پھر انجام کار بہت خوار اور ذلیل ہو کر اسی بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی بے انتہا عجیب و غریب قدرتوں کا احاطہ کرنا انسان کا کام نہیں۔66 هر چه دا نا کند کند نادان لیک بعد از کمال رسوائی ، (سرمه چشم آریہ صفحہ ۱۲۵ تا ۱۳۴ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۲ صفحه ۱۷۳ تا ۱۸۲ حاشیه ) ترجمہ - عقل مند جو کچھ کرتا ہے، بیوقوف بھی آخر وہی کرتا ہے لیکن بہت خواری اٹھانے کے بعد۔