سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 511
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱۱ دنیا میں دعا جیسی کوئی چیز نہیں الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ یہ عاجز اپنی زندگی کا مقصد اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لیے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتا رہے کہ جو رب العرش تک پہنچ جائیں“۔حصہ پنجم مکتوب ۲۱ رمئی ۱۸۸۳ء بنام میر عباس علی صاحب - مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۳۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اس زمانہ بعثت سے قبل کی دعاؤں کے لئے میں تاریخی ترتیب کو مد نظر نہ رکھوں گا بلکہ میرے مدنظر صرف ایک نقطہ ہوگا کہ وہ دسمبر ۱۸۸۸ء سے پہلے کی ہوں۔وَ بِاللهِ تَوْفِیق۔(1) بچپن میں دعا کا جذبہ بچپن بالآخر بچپن ہے وہ کسی بادشاہ کا ہو یا عام آدمی کا تو نگری کا ہو یا غریبی کا مگر بچپن کے رجحانات آگے چل کر بطور ایک پیج کے ثابت ہوتے ہیں اور اسی لئے مثل مشہور ہے۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات میں جب آپ کے سوانح حیات کے لئے مواد جمع کر رہا تھا اور آپ کے بچپن کے حالات مختلف ذرائع سے معلوم کرتا رہتا تھا تو مجھ کو ایک عجیب اور مؤثر واقعہ کا پتہ لگا جس کو میں نے سیرت مسیح موعود جلد اوّل نمبر دوم کے صفحہ ۱۵۷ پر درج کیا ہے میں نے اس واقعہ سے آپ کے دعاؤں پر فطرتی ایمان اور بچپن میں نماز کے لئے جوش کو ظاہر کیا ہے۔حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اسی واقعہ کے متعلق علم النفس کی روشنی میں جن تاثرات کا اظہار کیا ہے وہ آپ ہی کے الفاظ میں حسب ذیل ہیں۔”مرزا صاحب کو اپنی بچپن کی عمر سے ہی اپنے والد صاحب کی زندگی میں ایک ایسا تلخ نمونہ دیکھنے کا موقع ملا کہ دنیا سے آپ کی طبیعت سرد ہوگئی۔اور جب آپ بہت ہی بچہ تھے تب بھی آپ کی تمام خواہشات رضائے الہی کے حصول میں لگی ہوئی تھیں