سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 26
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶ کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا ) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوت متخیله کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے اس ذات بے چون و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضاء وقدر پیش کی گئی اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑ کا اور بقیہ سرخی کا قلم کے مونہہ میں رہ گیا اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہوگئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سرخی کے تازہ بہ تازہ کپڑوں پر پڑے چنانچہ ایک صاحب عبد اللہ نام جوسنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرہ سرخی کے ان کی ٹوپی پر پڑے۔پس وہ سرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آ گئی۔اسی طرح اور کئی مکاشفات میں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے مشاہدہ کیا گیا ہے اور اپنے ذاتی تجارب سے ثابت ہو گیا جو بلاشبہ امور کشفیہ کبھی کبھی باز نہ تعالیٰ وجود خارجی پکڑتے ہیں یہ امور عقل کے ذریعہ سے ہر گز ذہن نشین نہیں ہو سکتے بلکہ جو شخص عقل کے گھمنڈ اور غرور میں پھنسا ہوا ہے وہ ایسی باتوں کو سنتا ہے نہایت تکبر سے کہے گا کہ یہ سراسر امر محال اور خیال باطل ہے اور ایسا کہنے والا یا تو دروغگو ہے یا دیوانہ یا اس کو سادہ لوحی کی وجہ سے دھوکا لگا ہے اور بہ باعث نقصان تحقیق بات کی تہ تک پہنچنے سے محروم رہ گیا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ان عقلمندوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ امور جن کی صداقت پر ہزار ہا عارف و راستباز اپنے ذاتی تجارب سے شہادتیں دے گئے ہیں۔اور اب بھی دیتے ہیں اور صحبت گزین پر ثابت کر دینے کے لئے بفضلہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری لیتے ہیں کیا وہ ایسے خفیف امور ہیں جو صرف منکرانہ زبان ہلانے سے باطل ہو سکتے ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ عالم کشف کے عجائبات تو ایک طرف رہے جو عالم عقل ہے یعنی جس عالم تک عقل کی رسائی ہونا ممکن ہے اس عالم کا بھی ابھی تک عقل حصہ اول