سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 489
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السا ۴۸۹ آخری بات میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی خصوصیات کو نہایت اختصار سے بیان کیا ہے ورنہ جس طرح دعا کا مضمون وسیع ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث ایک مستقل تصنیف کو چاہتی ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی خصوصیات کی مختلف شانوں پر بحث بھی ایک جدا گانہ تالیف کی داعی ہے میں نے صرف ایک راستہ کھول دیا ہے تا کہ احباب خودان دعاؤں کے مختلف پہلوؤں پر غور کریں۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کو لکھوں گا۔میں چاہتا تھا کہ ان میں ایک ایسی ترتیب قائم کروں جو اپنے اندر تاریخی رنگ رکھتی ہو مگر میں سر دست اس کا التزام نہیں کر سکا گو میں نے کسی حد تک کوشش کی ہے۔ان دعاؤں کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ آپ کی بعثت سے قبل کی دعاؤں میں ایک خاص رنگ حصول رضائے الہی تزکیہ نفس ذاتی اعلائے کلمتہ الاسلام کے لئے ایک تڑپ کا پایا جانا ہے اور بعثت کے بعد دعاؤں میں ایک اور رنگ پیدا ہو گیا ہے مخلوق الہی کی ہدایت کے لئے تجلیات الہیہ کے ظہور و نزول کے لئے ایک جوش ہے اور اعداء و مخالفین کے مقابلہ میں بھی آپ نے بددعا کا رنگ اختیار نہیں کیا بلکہ اپنے لئے طلب عذاب کی کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو تباہ کر دے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کی ترقی اور کامیابی کے اعجازی نشانات دکھائے الغرض یہ دعائیں انسان کے اندر ایک خاص کیفیت پیدا کرتی ہیں اور اس کی روح میں بالیدگی اور توجہ الی اللہ کے لئے جوش کے جذبات کو ابھارتی ہیں میں نے کوشش کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حضرت اقدس کی دعاؤں کو جمع کر دوں مگر یہ ناممکن ہے اس لئے کہ آپ نے لا انتہا دعائیں کی ہیں۔آپ کے شب و روز ہر حرکت وسکون میں دعا کا سلسلہ جاری رہتا تھا نا دان اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے۔بعض مطالب کے بیان میں تکرار بھی پایا جائے گا مگر یہ رنگ خود حضرت مسیح موعود نے پیدا کیا ہے اور یہ قرآن کریم کا اتباع ہے اس میں زندگی بخش اسرار ہیں بہر حال میں نے اپنی حقیر کوشش کو پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قبول فرما دے اور یہ نافع الناس