سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 471
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم تصانیف میں تقریروں اور مکتوبات میں کھول کھول کر بیان فرمائی ان تمام امور کو یک جائی نظر سے دیکھنے سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ آپ کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت تھی تامہ محبت جو عشق کا درجہ رکھتی تھی چنانچہ آپ نے فرمایا۔بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح وثنا آپ کے فضائل و مناقب کے لئے آپ کی تصانیف نظم و نثر میں ایک خاص شان پائی جاتی ہے اس وقت میں آپ کی سیرت کے اس پہلو پر بحث نہیں کر رہا ہوں بلکہ میں دکھانا چاہتا ہوں کہ آپ کی دعاؤں کی خصوصیات میں یہ امر داخل تھا کہ آپ دعا میں کثرت سے درود شریف پڑھتے اور دوسروں کو پڑھنے کی ہدایت فرماتے اور اس چیز کو سر چشمہ برکات قرار دیتے تھے۔ایک مرتبہ فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہا نالیاں ہو جاتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں یقیناً کوئی فیض بدوں وساطت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 66 دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔“ پھر فرمایا۔وو ” درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے اس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اُس کو لازم 66 ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔“ الحکم جلدے نمبر ۸ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ سے کالم نمبر او۲)