سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 459 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 459

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۹ حصہ پنجم کے دُور کرنے کے لئے بعض چیزوں کو سبب ٹھہرا رکھا ہے جیسا کہ پانی پیاس کے بجھانے کے لئے اور روٹی بھوک کے دور کرنے کے لئے قدرتی اسباب ہیں پھر کیوں اس بات سے تعجب کیا جائے کہ دُعا بھی حاجت براری کے لئے خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ایک سبب ہے جس میں قدرت حق نے فیوض الہی کے جذب کرنے کے لئے ایک قوت رکھی ہے۔ہزاروں عارفوں راستبازوں کا تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ درحقیقت دُعا میں ایک قوت جذب ہے۔اور ہم بھی اپنی کتابوں میں اس بارے میں اپنے ذاتی تجارب لکھ چکے ہیں اور تجربہ سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں۔اگر چہ یہ سچ ہے کہ قضا و قدر میں پہلے سب کچھ قرار پاچکا ہے مگر جس طرح یہ قرار پا چکا ہے کہ فلاں شخص بیمار ہو گا اور پھر یہ دوا استعمال کرے گا تو وہ شفا پا جائے گا اسی طرح یہ بھی قرار پا چکا ہے کہ فلاں مصیبت زدہ اگر دُعا کرے گا تو قبولیت دعا سے اسباب نجات اس کے لئے پیدا کئے جائیں گے۔اور تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ جس جگہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہو جائے کہ ہمہ شرائط دُعا ظہور میں آوے وہ کام ضرور ہو جاتا ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت اشارہ فرما رہی ہے۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم میرے حضور میں دُعا کرتے رہو آخر میں قبول کرلوں گا۔تعجب کہ جس حالت میں باوجود قضا و قدر کے مسئلہ پر یقین رکھنے کے تمام لوگ بیماریوں میں ڈاکٹروں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو پھر دُعا کا بھی کیوں دوا پر قیاس نہیں کرتے ؟“ (۴) دعا اور تدبیر کا باہمی تعلق ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۳۲ حاشیه ) دیکھا جاتا ہے کہ انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدبیر اور علاج کی طرف مشغول ہوتی ہیں۔ایسا ہی طبعی جوش سے دُعا اور صدقہ اور خیرات کی طرف جھک جاتی ہیں۔اگر دُنیا کی تمام قوموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کسی