سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 444 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 444

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۴ خطوط کو ڈاک کا محصول اپنی گرہ سے ادا کر کے لیتا تھا۔اور جب کھولتا تھا تو ان میں اوّل سے آخر تک گندی اور مخش گالیوں کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا۔آپ ان پر سے گذر جاتے اور ان شریروں اور شوخ چشموں کے لئے دعا کر کے ان کے خطوط ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان ایام میں اپنی مخالفت میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔اور اس نے اپنی گالیوں پر اکتفا نہ کر کے سعد اللہ لد بانوی جعفر زٹلی اور بعض دوسرے بے باک آدمیوں کو اپنارفیق اور معاون بنارکھا تھا۔وہ ہر قسم کی اہانت کرتے مگر خدا کے برگزیدہ کو اس کا شیریں کلامِ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ تسلی دیتا اور کامل صبر سے ان گندی تحریروں پر سے گذر جاتے۔ایک مرتبہ ۱۸۹۸ء میں مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا ایک گالیوں کا بھرا ہوا رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور بھیجا میں نے ۲۷ جولائی ۱۸۹۸ء کے الحکم میں اس کیفیت کو درج کر دیا ہے۔اور آج قریباً تمہیں سال ہوئے جب اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت حوصلہ ضبط نفس اور توجہ الی اللہ پر غور کرتے ہوئے پڑھتا ہوں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل جاتے ہیں۔دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے بیٹھے بیٹھے کیا جانئے ہمیں کیا یاد آیا یه ۲۵ جولائی ۱۸۹۸ء کا واقعہ ہے۔جب کہ ایک شخص محمد ولد چوغطہ اعوان ساکن ھموں گھگڑ ضلع سیالکوٹ نے مولوی صاحب کا رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کیا۔جسے مولوی محمدحسین صاحب نے بھیجا تھا۔آپ نے وہ رسالہ لانے والے قاصد کو اس پر ایک فقرہ لکھ کر واپس کر دیا اور وہی اس کا جواب تھا۔جواب مذکور حضرت مولانا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے حاضرین کو پڑھ کر سنایا اور سب نے آمین کہی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب یہ تھا۔رَبِّ إِنْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ صَادِقًا فِي قَوْلِهِ فَاكْرِمُهُ وَ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَخُذُهُ۔آمین یعنی اے میرے رب ! اگر یہ شخص اپنے قول میں (جواس نے کتاب میں لکھا ہے ) سچا ہے۔تو