سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 443
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۳ ہیں۔امرتسر کے مقام پر تو وہ طوفان بے تمیزی برپا کیا گیا۔کہ وہاں کی پولیس اور مقامی حکام کو انتظام قائم رکھنے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خدام کی حفاظت کا خاص طور پر انتظام کرنا پڑا۔آپ کی گاڑی پر دور تک پتھروں کی بارش ہو رہی تھی۔میں اس لطف اور ذوق کو بیان نہیں کر سکتا جو اس وقت ایمانی رنگ میں پیدا ہورہا تھا۔خاکسار عرفانی بھی اس گاڑی پر کوچوان کے ساتھ بیٹھنے کی سعادت رکھتا تھا۔جس پر امرتسر کے لفنگے پتھر مار رہے تھے۔اور یہ خدا تعالیٰ کا ایک کھلا کھلا نشان تھا۔کہ وہ پتھر ادھر سے اُد ہر نکل جاتے تھے۔اور ہم محفوظ اور صحیح سلامت اپنے گھر پہنچ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان تمام حالات میں پورے مطمئن اور مستقیم الاحوال تھے۔نہ انہیں کسی قسم کا خوف تھا اور نہ غم اور وغصہ بلکہ آپ کے رحم ولطف کے جذبات جوش میں تھے۔اور مسلمانوں کی اس حالت پر افسوس کرتے تھے۔کسی شخص کو آپ نے سختی اور برہمی سے جواب نہیں دیا۔اور نہ ان کے لئے بددعا کی۔اگر چہ خدا تعالیٰ نے جو اپنے مرسلوں کے لئے غیور ہوتا ہے۔اور وہ عزیز ذوانتقام بھی ہے۔اسی امرتسر میں جہاں اس کے مرسل پر پتھر برسائے گئے تھے۔گولیوں کی بارش کروادی اور تاریخی طور پر یہ عبرت بخش نظارہ ایک یادگار کے طور پر جلیا نوالا باغ کی صورت میں قائم رہ گیا۔احمق اور نادان اس قسم کے واقعات سے سبق اور عبرت حاصل نہیں کیا کرتے۔لیکن سنتِ الہی یہی ہے کہ وہ اپنا عتاب و عذاب مختلف صورتوں میں نازل کرتا ہے۔اور خصوصاً ایسے اوقات میں کہ اہل قریہ بالکل غافل ہو جاتے ہیں۔گالیوں کا پلندہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بالمشافہ زبانی گندے حملے ہی نہ ہوتے تھے اور آپ کی جان پر اس طرح کے بازاری حملوں پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا تھا۔آپ کے قتل کے فتووں اور منصوبوں اور پھر اس کے لئے کوششوں کو ہی کافی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اخبارات اور خطوط میں بھی گالیوں کی بوچھاڑ کی جاتی تھی۔اور پھر اسی پر بس نہیں ایسے خطوط عموماً بیرنگ آپ کو بھیج دیئے جاتے تھے۔خدا کا برگزیدہ ان