سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 436 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 436

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق و شمائل کے کئی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔اول۔آپ کو اپنے منجانب اللہ ہونے پر کس قدر بصیرت اور ایمان تھا۔دوم۔آپ کا طریق استدلال ہمیشہ علی منہاج نبوت تھا۔سوم۔آپ کے تلخ ترین دشمن جو مختلف قسم کے منصوبے اور ارادے لے کر آتے تھے۔وہ بھی آپ کے دعوے کو نبیوں کا دعویٰ سمجھتے تھے۔چہارم۔آپ اکرام ضیف اور مہمان نوازی کے لئے کس قد رحوصلہ اور وسعت اپنے قلب میں رکھتے تھے۔اور آپ کا قلب مطہر اس کو جائز ہی نہ رکھ سکتا کہ مہمان کو کچھ بھی رنج ہو۔پنجم۔آپ کا حوصلہ اور حلم اس قدر وسیع اور آپ کو اپنے جذبات پر اس قدر قوت اور قدرت حاصل تھی کہ تلخ سے تلخ بات جو اشتعال اور جوش دلا سکتی ہے۔وہ آپ کے قلب کو مقام سکینت و وقار سے ہلا نہیں سکتی تھی۔ششم۔آپ کے مزاج میں اس قدر انصاف تھا کہ آپ نے ایک مخالف کا یہ حق تسلیم کر لیا کہ وہ جو چاہے کہے۔اس لئے کہ وہ عقیدت مند نہیں۔اور اس سے وہ توقع نہیں کرنی چاہیے جو ایک راسخ الاعتقاد مرید سے ہوسکتی ہے۔ہفتم۔خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسی فراست اور نور عطا کیا تھا کہ آپ شرارت کے نکتہ خیال سے آنے والے کو بھی پہچان جاتے تھے۔یہ شخص جیسا کہ اس نے خود اعتراف کیا۔دل میں بڑے ارادے اور منصوبے استہزاء اور ٹھٹھے کے لے کر آیا تھا۔مگر اپنے ارادوں میں ناکام رہا۔اور یہ کہ خدا تعالیٰ کی اُس وحی کی تصدیق بھی اُس کے سامنے ہو گئی جو يَحْمَدُكَ اللَّهُ مِنْ عَرُشِهِ ہے۔ہشتم۔یہ اصل بھی ثابت ہو گیا ہے کہ آپ نے جو ہمیشہ جماعت کو قرآن مجید کی اس تعلیم کی طرف توجہ دلائی۔اِدْفَعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ وہی صحیح اور مؤثر طریق تبلیغ ہے۔تہم۔آپ اپنی نبوت پر یقین رکھتے تھے۔اور آپ علی وجہ البصیرت دوسرے انبیاء علیہم السلام کے طرز پر اپنی صداقت کو پیش کرتے تھے۔