سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 417 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 417

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۷ بڑے کام کی باتیں ہیں۔حضرت کو معلوم ہوا۔منہ سے کسی کو کچھ نہ کہا۔ایک شب سب کو جمع کر کے کہا آج ہم تمہیں اپنی کہانی سنائیں ایسی خدا لگتی اور خوف خدا دلانے والی اور کام کی باتیں سنائیں کہ سب عورتیں گویا سوتی تھیں اور جاگ اٹھیں سب نے توبہ کی اور اقرار کیا کہ وہ صریح بھول میں تھیں۔اور اس کے بعد وہ سب داستا نہیں افسانہ خواب کی طرح یادوں ہی سے مٹ گئیں۔ایسے موقعہ پر ایک تند خو مصلح جو کارروائی کرتا اور بے فائدہ اور بے نتیجہ حرکت کرتا ہے کون نہیں جانتا ممکن ہے کہ ایک بدمزاج بد زبان ظاہر میں ڈنڈے کے زور سے کامیاب ہو جائے مگر وہ گھر کو بہشت نہیں بنا سکتا“۔سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مصنفہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۳۱،۳۰) انسان پر بیماری کے حملے جب ہوتے ہیں تو وہ بھی اس کے سکون وقرار کو ہلا دیتی ہے اور اس کی طبیعت میں چڑ چڑا پن اور بد مزاجی پیدا کر دیتی ہے۔بیمار بات بات پر بگڑتا ہے۔اور غصہ ہوتا ہے۔میں بیماری اور تیمارداری کے باب میں شمائل کے دوسرے حصہ میں بیان کر آیا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حوصلہ اور برداشت سے کام لیتے ہیں۔کسی پر ناراضگی نہیں اگر کسی نے پوچھا نہیں تو افسوس نہیں بلکہ ایک قلب مطمئن کے ساتھ اپنے وقت کو گزار لیتے ہیں۔اس کے بعد کھانے پینے کی ضروریات کے متعلق اہتمام بھی ایک چیز ہے کہ انسان کی اندرون خانہ زندگی پر اثر پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب مطہر پر ان باتوں سے بھی کسی قسم کی کدورت یا تلخی پیدا نہیں ہوتی۔اگر کسی نے وقت پر انتظام نہیں کیا یا تعمیل حکم میں سستی کی ہے تو آپ نے اس سے بھی باز پرس نہیں کی۔بلکہ پورے حوصلہ اور حلم سے کام لیکر بتا دیا کہ یہ سب چیزیں آپ کے سکون اور وقار کو ہلا نہیں سکتی ہیں۔اس کے متعلق میں حضرت مخدوم الملت کے الفاظ میں ایک واقعہ نقل کرنا چاہتا ہوں۔