سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 15
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ اول تبرک کے عطا فر ماتے تو دوسرا بنوا کر اسی وقت پہنا پڑتا اور بعض سمجھدار اس طرح بھی کرتے تھے کہ مثلاً ایک کپڑا آپ بنوا کر بھیج دیا اور ساتھ عرض کر دیا کہ حضور ایک اپنا اترا ہوا تبرک مرحمت فرما دیں۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔اب آپ کے لباس کی ساخت سنئے۔عموماً یہ کپڑے آپ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔کرتہ یا قمیص، پائجامہ ،صدری، کوٹ ، عمامہ۔اس کے علاوہ رومال بھی ضرور رکھتے تھے اور جاڑوں میں جرا ہیں۔آپ کے سب کپڑوں میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بہت کھلے کھلے ہوتے تھے۔اور اگر چہ شیخ صاحب مذکور کے آوردہ کوٹ انگریزی طرز کے ہوتے مگر وہ بھی بہت کشادہ اور لیے یعنی گھٹنوں سے نیچے ہوتے تھے اور جیسے اور چونہ بھی جو آپ پہنتے تھے تو وہ بھی ایسے لمبے کہ بعض تو ان میں سے ٹخنے تک پہنچتے تھے۔اسی طرح گرتے اور صدریاں بھی کشادہ ہوتی تھیں۔بنیان آپ کبھی نہ پہنتے تھے بلکہ اس کی تنگی سے گھبراتے تھے۔گرم قمیص جو پہنتے تھے اُس کا اکثر اوپر کا بٹن کھلا رکھتے تھے۔اسی طرح صدری اور کوٹ کا اور قمیض کے کنوں میں اگر بٹن ہوں تو وہ بھی ہمیشہ کھلے رہتے تھے آپ کا طرز عمل " مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ “ کے ماتحت تھا کہ کسی مصنوعی جکڑ بندی میں جو شرعاً غیر ضروری ہے پابند رہنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا اور نہ آپ کو کبھی پرواہ تھی کہ لباس عمدہ ہے یا برش کیا ہوا ہے یا بٹن سب درست لگے ہوئے ہیں یا نہیں۔صرف لباس کی اصل غرض مطلوب تھی بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہیں بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کا جوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔آپ کی توجہ ہمہ تن اپنے منصب کی طرف تھی اور اصلاح امت میں اتنے محو تھے کہ اصلاح لباس کی طرف توجہ نہ تھی۔آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم وضع کا ہی رہتا تھا۔یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے اور یہ علالت طبع کی وجہ سے تھا۔سردی آپ کو موافق نہ تھی اس لئے اکثر گرم کپڑے رکھا کرتے تھے۔البتہ گرمیوں میں نیچے کر یہ یلمل کا رہتا تھا۔بجائے گرم کرتے کے۔پاجامہ آپ کا معروف شرعی وضع کا ہوتا تھا۔پہلے غرارہ یعنی ڈھیلا مردانہ پاجامہ بھی پہنا کرتے تھے مگر آخر عمر میں ترک کر دیا تھا۔مگر گھر میں کبھی کبھی گرمیوں میں دن کو اور عاد تا رات کے وقت نہ بند باندھ کر خواب فرمایا کرتے تھے۔