سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 390
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ کی بی بی صاحبہ صدق دل سے مسیح موعود مانتی ہیں اور آپ کی تبشیرات سے خوش ہوتی اور انذارات سے ڈرتی ہیں۔غرض اس برگزیدہ ساتھی کو برگزیدہ خدا سے سچا تعلق اور پورا اتفاق ہے۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۲۹ تا ۳۳) حسن معاشرت کا نتیجہ اس حسن معاشرت کے اثر اور نتیجہ کے اظہار کے لئے سیرت اُم المومنین میں بہترین مقام ہوسکتا ہے۔مختصراً ان الفاظ پر غور کرو جو حضرت اُم المومنین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر فرمائے۔اور میں نے اپنے کانوں سے سنے۔اور خدا کے فضل سے سب سے اول ان کی اشاعت کی۔جب حضرت مسیح موعود کا جسد خاکی لاہور سے لا کر باغ میں رکھا ہوا تھا۔خاکسار عرفانی بعض دوسرے دوستوں ( سیکھواں والے بھائی) کے ساتھ جنازہ کی حفاظت پر مامور تھا۔حضرت ام المومنین تشریف لائیں اور فرمایا۔تو نبیوں کا چاند تھا تیرے ذریعہ میرے گھر میں فرشتے اترتے تھے اور خدا کلام کرتا تھا۔اس وقت کو دیکھو اور غور کرو کہ ایسے حالات میں تصنع اور بناوٹ نہیں رہ سکتی۔اس فقرہ سے نمایاں ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے اہل بیت سے کس طرح معاشرت کرتے تھے۔اور آپ کے دعاوی کی صداقت کس طرح حضرت ام المومنین کے دل میں جا گزیں تھی۔حضرت ام المومنین (مَتَّعْنَا اللَّهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا۔آمین ) کی خاطر داری حضور کو بہت منظور تھی اور اس کی وجہ وہی ہے۔جو حضور نے خود بیان فرمائی۔کہ وہ ان کو شعائر اللہ میں سے سمجھتے تھے۔حضرت ام المومنین بھی آپ کی راہ میں بہ حیثیت خدا تعالیٰ کے مرسل و مہدی ہونے کے فدا تھیں۔اور ہر قسم کی مالی قربانیوں کے لئے آمادہ رہتی تھیں۔جب حضرت مسیح موعود کو سلسلہ کے اغراض و مقاصد کے لئے ضرورت ہوئی تو حضرت ام المومنین نے اپنے مال کو آپ کے قدموں میں ڈال دیا اور حضرت مسیح موعود نے حج کا ارادہ فرمایا ہوا تھا۔لیکن خدا کی مشیت نے آپ کو فرصت نہ دی۔حضرت ام المومنین نے اپنے پاس سے روپیہ دے کر حج بدل کے لئے ایک آدمی کو بھیجا اور حضرت کے وصال کے بعد حج کرایا۔