سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 384
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۴ باندھنے والی کوئی شے نہیں اور بالآخر یہی تلخی آفرین طبیعت ہے جس نے اس عالم کو دار الکدورت اور بیت الحن بنارکھا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی کتاب حکیم نے جہاں چاہا ہے کہ اُس دوسرے عالم کا دار السلام اور بیت السرور ہونا ثابت کرے اور اس کی قابل رشک خوشیوں اور راحتوں کا نقشہ بالمقابل اس عالم کے دکھائے ان الفاظ سے بہتر تجویز نہیں فرمائے۔وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِّنْ غِلٌ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقْبِلِينَ (الحجر : ۴۸) یعنی بہشت میں وہ قوت ہی انسانوں کے سینہ سے ہی نکال ڈالی جائے گی جو عداوتوں اور کینوں اور ہر قسم کے تفرقوں کی موجب ہوتی ہے۔جس شخص میں اس وقت وہ موجود نہ ہو ہم صاف کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسی عالم میں بہشت بریں کے اندر ہے۔اور چونکہ یہ قوت ایک چشمہ کی طرح ہے اس سے قیاس ہو سکتا ہے کہ اور اخلاق کس پایہ اور کمال کے ہوں گے۔اس بات کو اندرون خانہ کی خدمت گار عورتیں جو عوام الناس سے ہیں اور فطری سادگی اور انسانی جامہ کے سوا کوئی تکلف اور تصنع کی زیر کی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں۔بہت عمدہ طرح سے محسوس کرتی ہیں۔وہ تعجب سے دیکھتی ہیں اور زمانہ اور اپنے اور اپنے گردو پیش کے عام عرف اور برتاؤ کے بالکل بر خلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں، اور میں نے بارہا انہیں خود حیرت سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مر جائیوی دی گل بڑی مندا ہے۔ایک دن خود حضرت فرماتے تھے۔”فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔اور فرمایا کہ ”ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا اور یہ در حقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکر یہ ہے کہ عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔“ ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کا ذکر ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔حضرت اس بات سے بہت کشیدہ خاطر ہوئے اور فرمایا: